خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 455
خطبات طاہر جلد 16 تمہیں سراٹھا کر چلنا ہے۔ 455 خطبہ جمعہ 20 جون 1997ء یہ وہ تکبر ہے جس میں حقیقت میں بنیادی طور پر انکساری ہے کیونکہ خدا کی خاطر آپ اپنا سر اٹھا رہے ہیں اور ایسے موقع پر آنحضرت ﷺ سے بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ نیکیوں کا اثر ڈالنے کے ہیں اور ایسے پر کی لئے سراٹھانا ہی نیکی بن جایا کرتا ہے۔ اپنی اعلیٰ اقدار پر سر اٹھا کر چلیں کوڑی کی بھی پرواہ نہ کریں کہ کوئی آپ کو کس طرح دیکھتا ہے اور کیا سمجھ رہا ہے یہ احساس خود اعتمادی گھر میں بچپن میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نے نہ کیا تو پھر بارہ، چودہ پندرہ سال کے بعد بالکل آپ کا بس نہیں رہے گا۔ آپ کو اختیار نہیں رہے گا۔ پھر دنیا کی لذتیں ان کو اس عمر میں اپنی طرف اس طرح کھینچیں گی کہ ان کے نزدیک خود اعتمادی کا کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔ پس بہت سے ایسے خاندان میں نے دیکھے جن کے بچے ماں باپ سے ڈرے ہوئے تھے اور نظر آ رہا تھا کہ ماں باپ بڑے جبار ہیں اور ان کی مجال نہیں کہ وہ ان سے ہٹ کر چلیں اور مجھے ان کے متعلق تشویش پیدا ہوتی تھی ، رحم آتا تھا کہ کیسی تربیت ہے کہ جب بھی یہ آزاد ہوں گے ان ماں باپ کی کوڑی کی بات بھی نہیں سنیں گے۔ پس خاص طور پر ایفر وامریکن بچوں کے لئے میں یہ نصیحت کر رہا ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے ایفرو امریکن ماں باپ جو نیک اور مخلص ہیں وہ اس طرح کہ وہ اس طرح کرخت بھی ہیں اور اپنے گھر میں اپنی سلطنت قائم کرنے میں بڑے جابر ہیں ۔ ان کے بچوں کو میں نے دیکھا ہے بہت سر جھکا کر چل رہے ہیں، مجال ہے جو ادھر سے ادھر ہو جائیں ۔ کئی دفعہ غلطی سے انہوں نے بایاں ہاتھ کر دیا تو سختی سے ڈانٹ پڑی خبردار! دایاں ہاتھ آگے کرو۔ جزاکم اللہ اس طرح کہو، فلاں بات یوں کہو اور ماں باپ سمجھ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے بچوں کی کیسی اچھی تربیت کی ہے۔ ان کو یہ نہیں پتا کہ کل بچے مڑ کر دیکھیں گے اور کہیں گے اب جو کرنا ہے کر لو اب ہم تم سے نکل کے آزاد ہو چکے ہیں۔ تو نیکی کی لذت حاصل کرنا اور لذت حاصل کرنا سکھانا یہ ماں باپ کا کام ہے۔ نیکی سے وابستگی لذت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ کوئی انسان سر پھرا تو نہیں ہے کہ بے وجہ لذتوں سے منہ موڑ لے جب تک بہتر اور اعلیٰ لذتیں نصیب نہ ہوں۔ اس لئے خدا تعالیٰ کا یہ ایک دائمی قانون ہے جس کو آپ کو پیش نظر رکھنا ہے۔ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المؤمنون:97) سارے قرآن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ برائی کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں جب تک کہ اس سے بہتر چیز آپ پیش