خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد 16 451 خطبہ جمعہ 20 جون 1997ء بھی ایک لذت ہے اور جب آپ اپنا حق کسی کے لئے چھوڑتے ہیں تو اس میں بھی ایک لذت ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہ دوسری قسم کی لذت دائمی ہو جاتی ہے، ساری زندگی انسان کو لطف پہنچاتی رہتی ہے اور پہلی قسم کی لذت ایک شر پیدا کرتی ہے جو خود اپنے ضمیر میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پھر مزید کی طلب پیدا کر دیتی ہے اور کبھی بھی بدی کی لذت بار بار وہی بدی کرنے سے اسی طرح نہیں رہے گی بلکہ آگے بڑھے گی۔ ایک بدی کے بعد جب تک آپ دو بدیاں نہ کہ نہ کریں آپ کو چین نہیں آئے گا۔ جب دو بدیاں کریں گے تو تیسری بدی کی طرف آپ کا قدم اٹھے گا، چوتھی کی طرف اٹھے گا ، اسی طرح ساری دنیا میں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔ پس ان دو چیزوں میں جو فرق ہے وہ بعض مثالوں کے ذریعے آپ کو خود سمجھنا ہے اور اپنے بچوں کو سمجھانا ہے۔ آپ ان کو یقین دلائیں کہ جو تم قدریں اپنے طور پر حاصل کرتے ہو جائز قدریں ہیں ویلیوز (Values) جن کو انگریزی میں کہا جاتا ہے، جب تم ان کو چھوڑتے ہو تو اس کے نتیجے میں تمہیں ضرور مزہ آئے گا لیکن اگر بالا رادہ چھوڑو۔ اگر مجبور ہو کر چھوڑو گے تو تکلیف پہنچے گی ۔ پس بالا رادہ اپنی چیزوں کو دوسروں کو دینا اس لئے کہ ان پر احسان ہو اور ان کو مزہ آئے یہ چیز ہے کہ دینے والے کو بھی ضرور مزہ دیتی ہے اور یہ نیکی کی ایسی تعریف ہے جس میں آپ کبھی کوئی فرق نہیں دیکھیں گے۔ بدی میں یہ بات نہیں ہوتی۔ بدی میں کم سے کم بدی کرنے والا لذت محسوس بھی کرے تو جس کے خلاف کی جاتی ہے وہ محسوس نہیں کرتا لیکن نیکی میں دو طرفہ مزہ ہے اور دو طرفہ مزہ بھی ایسا جو دائمی ہو جاتا ہے جو کہ ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص احسان کا مزہ اٹھانے لگ جائے تو وہ اور زیادہ احسان کرے گا یعنی اور زیادہ اپنی مرضی سے اپنے حقوق دوسروں کی طرف منتقل کرے گا یہاں تک کہ بظاہر انبیاء کے مرتبے پر پہنچتے پہنچتے انسان اپنے سارے حقوق گا سوسائٹی کی طرف منتقل کر بیٹھتا ہے، اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کی زندگی بڑی بدمزہ ہوگئی ہے حالانکہ جو الطف احسان کا انبیاء کو محسوس ہوتا ہے دوسرا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پس یہ خیال کر لینا کہ نبی احسان کر کے تکلیف اٹھاتے ہیں بالکل غلط ہے۔ وہ تکلیف صلى الله اٹھا کے بھی احسان کرتے ہیں۔ یہ فرق ہے جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہمیں دائمی سبق کے طور پر ملتا ہے۔ آنحضرت ما نیکی کرنے پر مجبور تھے یعنی اپنی فطرت کی وجہ سے نیکی کی قدر کو انہوں نے