خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد 16 443 خطبہ جمعہ 20 جون 1997ء وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سختی سے بچوں کو دبانے کے نتیجے میں اگر اس عمر تک جب تک وہ ان کے ماتحت ہیں ان میں کوئی خرابی پیدا ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تو وہ غلطی پر ہیں۔ چونکہ بہت سے بچے اپنے ماں باپ کے حکم کی تعمیل میں یا ان کی سختی سے ڈر کر بسا اوقات اپنے دل کی خواہشات کو دبائے رکھتے ہیں اور جب وہ سوسائٹی میں کھل کر باہر جاتے ہیں تو وہ خواہشات ایک ایسے ماحول میں پنے لگتی ہیں جو ان کے لئے سازگار ہے۔ ہر بدی کا خیال، ہر اس لذت کی تمنا جو جلدی حاصل کی جاسکتی ہے امریکہ کی سوسائٹی میں سب سے زیادہ جلدی حاصل کی جاسکتی ہے۔ دنیا کی ہر سوسائٹی میں یہ ہ مسئلہ ہے لیکن امریکہ میں تو ماحول میں اتنی زیادہ سرعت کے ساتھ دل کی لذت کے سامان پیدا جاتے ہیں کہ بچوں کو بہکانے کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی چیز ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ جب وہ گھر کے ماحول سے نکلتے ہیں تو باہر کا ماحول انہیں بدیوں میں خوش آمدید کہتا ہے، نیکیوں میں نہیں اور یہ ایک اس ماحول کی خصوصیت ہے جسے بچوں کو سمجھا نا ضروری ہے۔ کئے میں نے دیکھا ہے کہ بچے یہ شکایت کرتے ہیں کہ جب ہم اسلامی طریق پر عمل کر رہے ہوں تو لوگ ہم پر ہنستے ہیں، لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ اور قسم کی نسل ہے اور ماحول کا یہ اختلاف اور نیکی پر حملہ کرنا یہ امریکہ کے ماحول کا ایک جزو بن چکا ہے۔ امریکہ کی فضا ایسی ہے کہ وہ لازماً گھر سے باہر نکلنے والے بچوں کو اپنی طرف کھینچے گی اور ان کی اچھی عادات کو فرسودہ خیالات کہہ کر ان کو رد کرتی ہے اس کے نتیجے میں بچے میں خود اعتمادی کا فقدان ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو اپنے گھر سے میں اقدار لے کر چلا تھا سوسائٹی میں تو ان کی کوئی بھی قیمت نہیں ، سوسائٹی میں جن اقدار کی قیمت ہے وہ ایسی اقدار ہیں جن کو گھر میں برا کہا جاتا تھا۔ پس آزادی کا ایک احساس باہر نکل کر ایسا پیدا ہوتا ہے جو تیزی کے ساتھ ایسے بچوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پس اس مشکل کو پیش نظر رکھتے ہوئے لازم ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کے دل اپنی طرف یعنی ماں باپ اپنی طرف مائل کریں اور گھر کے ماحول میں ان کی لذت کے ایسے سامان ہونے چاہئیں کہ وہ باہر سے گھر لوٹیں تو سکون کی دنیا میں لوٹیں، بے سکونی سے نکل کر اطمینان کی طرف آئیں اور یہ باتیں صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت پر غور کیا جائے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان دو اور بائیں کان میں تکبیر کہو۔ بہت سے صلى الله