خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد 16 384 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء ظاہری شکل سے ملتی جلتی صورتوں میں ہمیں قرآن میں دکھا دیں کہ ہم پہلے یہ کرتے رہے ہیں وہی مضامین ہیں جو آگے بڑھیں گے اور آگے بڑھ رہے ہیں ۔ پس جماعت احمدیہ کی حفاظت کا ، ان لوگوں کی یہ جو جماعت کی دشمنی کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں قسمیں کھائے بیٹھے ہیں ، ان کا شرافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کو بھی خدا نے جو حفاظت دی ہے یہ دی ہے بعض مشرکوں کو مشرکوں کے خلاف کھڑا کر دیا اس کو ہاتھ نہیں لگانا ، یہ ہماری پناہ میں ہے۔ تو وہ مخالفانہ لہریں تو اپنی ذات میں کو اپنی ذات میں کوئی رحم نہیں رکھتیں۔ مگر ان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے آپس میں توازن ایسا قائم کرنا یہ اعجاز ہوا کرتا ہے کہ آنحضرت کو بھی طائف سے واپسی پر ایک مشرک سردار نے اپنی حفاظت کا اعلان کرنے کے پناہ دی اور وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تابع تھا اور مشرکوں کو مشرکوں سے لڑا کر حضرت موسی کی طرح بیچ سے ایک راہ نکالی جا رہی تھی اس لئے اس میں کوئی بھی مضائقہ نہیں تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنی حفاظت کے لئے انسان کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ صلى الله یہ وہ مضمون ہے جس کے نتیجے میں آپ کو یا د رکھنا ہو گا کہ پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر بھی آپ کی حفاظت خدا فرمارہا ہے لیکن جہاں شرافت دکھائی دے اور شرافت کو اللہ تعالیٰ استعمال فرماتا ہے وہاں ہماری شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے لئے جو ممکن ہے دعا ئیں بھی کریں اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے جو کچھ بھی دنیا کے طور پر ہم کر سکتے ہیں وہ کرنا چاہئے ۔ پس ایسے ممالک پاکستان کے علاوہ بھی ہیں جہاں بعض مذہبی امور کے وزیر جن کو سعودی عرب سے دنیاوی طاقت ملتی ہے اور مالی طور پر بھی ان کو طاقت عطا ہوتی ہے وہ انصاف کے معاملے میں جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ان احمدیوں کو کہا ہے کہ بالکل فکر نہ کرو ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے لوگ ہیں اس لئے جو کچھ بھی سیاسی تقاضے ہوں ہم آپ کے ساتھ آپ کی مدد پر ہمیشہ تیار رہیں گے اور کسی فساد کو اپنے ملک میں جاری نہیں ہونے دیں گے اور اسی طرح وہ اپنے وعدہ پر قائم ہیں۔ میرے ساتھ بھی بعضوں کے رابطے ہیں اور میں ان کو حیرت سے دیکھتا ہوں دیکھو اللہ تعالی نے کس طرح ہماری حفاظت کے لئے انہی لوگوں میں سے نیک نفس لوگوں کو کھڑا کر دیا ہے اور ان کے لئے پھر ہم دعائیں کرتے ہیں پھر وہ بعض دفعہ اپنے حق میں ان کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔ تو اس طرح عالمی طور پر خدا تعالیٰ کے جو فضل جاری ہو رہے ہیں ان کو سمیٹنے کے انتظام بھی اللہ کر رہا ہے۔ اس کی حفاظت کے بغیر ہمیں ایک لمحہ