خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 359

خطبات طاہر جلد 16 359 خطبہ جمعہ 23 مئی 1997ء منتخب فرمایا گیا ہے کہ میں دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کروں اور ایک ایسے شخص کو منتخب فرمایا گیا ہے جس پر مقامی تعلیمات کا کوئی بھی اثر نہیں۔ صلى الله عليسة یہاں لفظ الأمي اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی یا کسی ملک اور کسی قوم کی تعلیمات سے ہرگز متاثر نہیں تھے اور اگر آپ کسی ایک قوم کی گود میں پرورش پانے تھے اور قوم والے اس رنگ میں ہوتے کہ اس قوم کے اعلیٰ تصورات یا اخلاق یا ان کے شخصی تشخص کے تابع ہو کر آپ نے بچپن گزارا ہوتا تو آپ کے لئے ممکن نہیں تھا کہ آپ گل عالم کو ایک نبی کے طور پر مخاطب فرماتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ شروع ہی سے آپ کو بغیر تعلیم کے چھوڑا یہاں تک کہ الف ب لکھنا آپ کو نہیں آتا تھا اور اس پہلو سے جو بھی تعلیم دی ، خود دی اور جب خود تعلیم دی تو سارے عالم کو مخاطب کر کے یہ اعلان فرمایا کہ میں وہ الأمي شخص ہوں جس کو دنیا کی کسی قوم نے تعلیم نہیں دی اور تم سب قوموں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس میں ایک اور خوشخبری کا پیغام بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کی اکثر قو میں آتی ہیں۔ مغرب البا یہ تصوربھی نہیں کر سکتیں کہ دنیا کی بھاری تعداد ایسی ہے جس کو لکھنا پڑھنا بھی نہیں آتا افریقہ کی آبادی ہے بہت بھاری جس کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا ، ہندوستان کی بہت بھاری آبادی ہے جسے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ پاکستان کی بہت بھاری آبادی ہے۔ اسی طرح جزائر کے رہنے والے ہیں کسی کو کچھ لکھنا پڑھنا نہیں آتا اور ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ اگر کسی بہت بڑے عالم کو رسول بنا کے بھیجتا تو وہ کہہ سکتے تھے کہ اسے تو علم کی فضیلت حاصل ہے یہ وہ باتیں کرتا ہے جو ایک عالم کو زیب دیتی ہیں ہم جاہلوں کا کیا کام کہ اس کے پیچھے چل سکیں ، ہمیں توفیق کیا ہے کہ ہم ایک بڑے عالم کی پیروی کر سکیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کے بنیادی مقام سے محمد رسول اللہ ﷺ کو اٹھایا ہے جو انسانیت کے تقاضوں کے لحاظ سے سب میں برابر ہے اور تعلیم کے لحاظ سے بھی ان میں سے کم سے کم کے ساتھ ہے یعنی جو نچلے سے نچلا درجہ انسان کا تعلیم کے لحاظ سے ہو سکتا ہے وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو الله حاصل تھا۔ پس اس پہلو سے دنیا کی کوئی قوم اور دنیا کا کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم ہمارے لئے نہیں ہو تم ہم سے اونچے آدمیوں کے لئے ہو اور سب سے نیچے سے سفر شروع فرمایا اور سب سے اوپر تک پہنچے۔ یہ وہ کمال ہے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا جس نے آپ کو گل عالم کا نبی بنانے میں صلى الله