خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 333
خطبات طاہر جلد 16 333 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997 ء ہے اور روحانی قدروں کا انتشار بھی ہے اور صلاحیتوں کا انتشار بھی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو مجتمع کریں اپنی شخصیت کو ایک بنیادی شخصیت میں ڈھال لیں یعنی مرکزی اس کا جو تشخص ۔ ہے وہ موحد کے طور پر ابھرے اگر آپ موحد بن جاتے ہیں تو پھر دنیا کی ہر ترقی آپ کے قدم چومے گی اور اپنے آسمان کے دائرے میں آپ کو ایک معراج نصیب ہوگا ۔ ہر ترقی آپ کو اپنے قدموں کے نیچے دکھائی دے گی۔ پس تمام کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنے قدموں کے نیچے دکھائی گئی ہے اوپر صلى الله صرف خدا کی ذات ہے۔ پس انتشار دور کرنے کا یہ معنی ہے اور انتشار دور کرنے کے لئے یہ مقصود نظر، یہ مطلوب ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ ہم اپنے وجود کی تمام صلاحیتوں کو اللہ کے لئے خالص کر لیں۔ اس کے نتیجے میں عبادت خالص ہوگی ، غلامی کے حقوق ادا کرنے کی صلاحیت عطا ہوگی اور جب یہ ہوگی تو پھر دنیا آپ کے سپرد کر دی جائے گی کیونکہ آپ سے زیادہ دنیا کا کوئی اور امین ہو نہیں سکتا۔ پھر آپ وہ مسلم بنیں گے جس کے اسلام کے ساتھ دنیا کا امن وابستہ ہو جائے گا اور ایسے ہی لوگ ہیں جو دنیا کے لئے امن عطا کرنے والے ہوتے ہیں۔ جن کا اپنا وجود اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہو خواہ چھوٹے دائرے میں ہو اس دائرے میں وہ دنیا کے امن کو برباد کرنے والے بنے رہتے ہیں۔ نفسانی خواہش کا جو چاہے آپ نام رکھ لیں جب بھی آپ اس کے حضور سر جھکائیں گے آپ خدا کے خالص بندے اس دائرے میں ختم ہو جائیں گے۔ اس دائرے میں آپ شیطان یا اپنے نفس کے بندے بنیں گے اور اس دائرے میں آپ کے سوا ہر انسان آپ سے محفوظ نہیں رہے گا۔ تمام دنیا کے امن کو اس بنیادی انسانی گناہ سے، گناہ کے مزاج سے خطرہ ہے کہ اپنے نفس کے لئے اپنے نفس کے حضور سر جھکا دے اور اس معاملے میں اللہ کی عبادت کی بجائے نفس کی اور اپنی خواہشات کی عبادت کرے۔ معبود سے جب کوئی چیز ٹکراتی ہے تو معبود اس کو ضرور تباہ کرتا ہے اس لئے انسان کے اپنے مفاد سے جب کسی غیر انسان کا مفاد ٹکرائے گا تو آپ اس کے امین کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس کی حفاظت کرنے والے کیسے بن سکتے ہیں۔ وہ تو اولین دشمن کے طور پر آپ کے سامنے ہوگا۔ جو آپ کی چیز پر ہاتھ ڈالے گا اس کے آپ ہاتھ کاٹنے پر آمادہ ہوں گے اور جو چیز آپ کی نہیں ہے اسے اپنا بیٹھے ہیں اس سے بھی اپنوں والا سلوک کرتے ہیں۔ پاکستان سے آئے دن خبر میں ملتی رہتی ہیں کئی لوگ کسی کے گھر میں داخل ہو گئے اور قبضہ کر لیا اور اب اپنے جھوٹے قبضے کو مالکوں سے بچانے کے لئے ہر حربہ