خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد 16 330 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997 ء ہو سکتی ہیں جب خدا نے جتنی بھی آپ کو صفات عطا فرمائی ہیں ان سب کا رخ ایک طرف ہو جائے ور نہ صفات تو بہت سی ہیں وہ ایک ہو ہی نہیں سکتیں جب تک ایک نقطے پر ارتکاز نہ کر جائیں۔ روشنی کی شعاعیں کتنی ہی پھیلی ہوئی ہوں اگر لیزر کی طرح ان کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا جائے ، ایک نقطے پر اکٹھا کر دیا جائے تو ان میں غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور جتنا زیادہ ارتکاز صحیح ہوگا اتنی ہی غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ سورج کی روشنی کو عدسی شیشے سے آپ ایک جگہ مرتکز کر کے دیکھیں تو سردیوں کی ٹھنڈی دھوپ بھی اس کا غذ کے ایک حصے کو جہاں شعاعیں مرتکز ہوئی ہیں ایک دم آگ لگا دیتی ہیں اور پھیلی ہوئی دھوپ کا آپ کو پتا ہی نہیں تھا کہ اس میں کیا طاقت ہے۔ پس بشریت کی طاقت کا راز بتایا گیا ہے اس میں ۔ فرمایا إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ میں تمہاری طرح بشر ہوں مگر ایک فرق پڑ گیا ہے یوتھی إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ مسلسل خدا تعالیٰ مجھے توحید کی طرف متوجہ رکھ رہا ہے، توجہ دلاتا چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مجھے توحید خالص کی ساری برکتیں عطا ہوئی ہیں اور مسلسل توجہ دلانے کا مطلب یہ ہے کہ میری تمام تر صفات جب بھی جلوہ دکھاتی ہیں اللہ کی طرف رخ کر کے وہ جلوہ دکھاتی ہیں۔ پس جب وہ خدا کی ذات میں مرتکز ہو جاتی ہیں تو ایک غیر معمولی طاقت ان سے پیدا ہوتی ہے۔ بشر سے نور بن جاتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا بشر ہوتے ہوئے نور ہونا یہی معنی رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فرمایا بہت بڑا اعلان ہے مگر گھبرانے کی بات نہیں ۔ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهَ اَحَدًا تمہیں بھی شوق پیدا ہوا ہے کہ ہم بھی ایسا بن کے دکھا ئیں تو تمہارے اندر بھی صلاحیتیں رکھی گئی ہیں۔ ورنہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کا دعویٰ جھوٹا ہوتا ۔ پس آؤ اور خوف زدہ ہو کر پیچھے نہ رہ جاؤ کم ہمتی نہ دکھاؤ، انہی راہوں پہ آگے بڑھو جن راہوں پہ میں نے آگے بڑھ کر دکھا دیا ہے کہ بشر ہوتے ہوئے انسان اللہ کا اتنا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ پس جو چیز اتنی عظیم الشان ہے اسے اسے محمد رسول اللہ ﷺ نے Common place بنا۔ بنا کے دکھایا ہے۔ میں بھی تو بشر ہوں میں نے یہ سب کچھ حاصل کیا ہے کہ نہیں۔ جب کر لیا ہے تو تم کیوں گھبراتے ہو، تم کیوں آگے نہیں بڑھتے ۔ وہی کام جو میں نے کئے ہیں تم بھی کرو۔ نیکیوں میں ترقی کر ولیکن ہر نیکی خدا ہی کی طرف رخ رکھے ۔ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكُ صلى الله