خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد 16 287 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء دعا سکھائی، جب نصیحت فرمائی کہ نیکیوں کے ذریعے بدیوں کو دور کرو تو ہر لمحہ اپنا جائزہ لینا لازم ہے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ کون سی بدیاں ہم نے کس حسن کے ذریعے دور کی ہیں۔ 66 یہ جو عمل ہے یہ لمحہ لحہ کا عمل ہے۔ یہ روزمرہ کا ایسا حساب نہیں کہ جیسے بھی کھاتے بند کرنے سے پہلے جو تاجر ہیں وہ بیٹھے اپنی دوکانوں میں حساب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اور طرح کا حساب ہے جولاز ما جاری و ساری حساب ہے۔ وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ کے مضمون سے اس کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور کوشش کروں گا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس کا گہرا فلسفہ آپ کو سمجھاؤں ۔ فرمایا اعمل ما شئت فقد غفرت لك یہ جو کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے بعض بندوں سے کہ اعمل ما شئت “ جو چاہے کر اب کھلی چھٹی ہے فقد غفرت لک پس میں تجھے بخش چکا ہوں ۔ پس جب میں نے بخش دیا تو پھر حساب کتاب کا کیا سلسلہ رہا اب تجھے چھٹی ہے جو چاہے کرتا پھرے۔ فرمایا اس کا مطلب سمجھو، غور کرو تو پھر تمہیں سمجھ آئے گی کہ یہ گناہوں کی چھٹی نہیں ہے جیسا کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں۔ فرمایا: حدیث میں آیا ہے کہ جب انسان بار بار رو رو کر اللہ سے بخشش چاہتا ہے تو آخر کا ر خدا کہہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھ کو بخش دیا۔ اب تیرا جو جی چاہے سو کر ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کے دل کو بدل دیا اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہوگا جیسے بھیڑ کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے۔“ یعنی بھیٹر جب گندگی پر منہ مارتی ہے تو ایک نیک طبع انسان جو اپنی بدیوں سے نجات پاچکا ہو، گندی عادتیں اس سے نکال کر باہر پھینک دی گئی ہوں تو جو گندگی اس سے نکال کر باہر پھینکی گئی ہے اس سے محبت تو نہیں رہتی بلکہ بری لگنے لگتی ہے۔ فرمایا اسی طرح خواہ ایک انسان بھوکا بھی ہوا اگر بھیڑ کو گندگی کھاتے دیکھے گا تو اس کا دل نہیں چاہے گا کہ اسی گندگی پہ وہ بھی منہ مارے بلکہ اور کراہت محسوس کرے گا تو اعمل ما شئت کا یہ مطلب ہے۔ فرماتے ہیں: اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہوگا جیسے بھیڑ کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے اسی طرح وہ انسان بھی گناہ نہ کرے 66 گا جسے خدا نے بخش دیا ہے ۔ ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ : 3)