خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد 16 271 خطبہ جمعہ 11 را پریل 1997 ء اس کی بالکل کوئی بھی اہمیت ان کے دل میں باقی نہیں رہتی۔ بعض نے تو یہاں تک مجھے کہا کہ اگر یہ شک ہے تو میں واپس جاتا ہوں اور اسائکم کوٹھوکر مارتا ہوں اور وہاں جاکے آپ کو پتا لگے گا کہ میں کیسا احمدی ہوں۔ واپس گیا اور انتہائی ثابت قدمی دکھائی ۔ سخت تکلیفوں میں مبتلا ہوا۔ اُف نہیں کی ۔ تو ایسے ایسے بھی صادق لوگ ہیں جو جھوٹ سے نکل کر سیچ کی وادی میں داخل ہوتے ہیں اور پھر بڑی مضبوطی سے ان کا قدم ہمیشہ بلندیوں کی طرف جاری رہتا ہے، یہ وہ علامتیں ہیں جو ظاہر ہونی لازما ہیں۔ کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلق کی بناء یہ بیان فرمائی۔ آپ نے کہا ہم نے دیکھا ہے مستجاب الدعوات ہے، اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ہم سر پھرے تو نہیں جو شک کرنا شروع کریں۔ چنانچہ کپورتھلہ کی جماعت کا خاصہ یہ تھا کہ علم کی بناء پر وہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے غلام اور صادق وفادار نہیں بنے بلکہ نشان کو دیکھ کر بنے ہیں اور سچوں کا نشان ایک تو مستجاب الدعوات ہونے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرا اس کا اپنا چہرہ ، اس کا اپنا قول خدا کی صفات کا جلوہ گر بن جاتا ہے اور وہ سچا دکھائی دینے لگتا ہے، سچا سنائی دینے لگتا ہے۔ یہ جو دلیل ہے اس دلیل نے صحابہ کی زندگی میں ان کی کایا پلٹ دی، انقلاب برپا کر دیا۔ منشی اروڑے خان کے واقعات آپ پڑھیں جو ہزار ہا ایسے صحابہ میں سے ایک تھے۔ ان سے جب لوگ پوچھتے تھے کہ بتاؤ کیا دیکھا تو شدت جذبات سے ان کی بعض دفعہ چیخیں نکل جاتی تھیں۔ کیا دیکھا؟ نور د یکھا، صداقت دیکھی، دلیل سے نہیں اس چہرے پر نمایاں تھی۔ وہ ایک سچے کا چہرہ تھا جس پر دل طبعا عاشق ہوتا تھا ، اچھل اچھل کر عاشق ہوتا تھا اور مقبول الدعوات تھا۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اس کی بہت سی مثالیں وہ بیان فرمایا کرتے تھے۔ کیسے ناممکن حالات میں وہ دعا قبول ہوتی اور حیرت انگیز طور پر اپنا جلوہ دکھاتی تھی تو یہ دو علامتیں ہیں جو آپ کی زندگی میں گناہ کے تریاق سے پیدا ہوتی ہیں، گناہ سے نہیں۔ گناہ کے خطرے سے جو تریاق پیدا ہوتا ہے وہ توجہ الی اللہ ہے، وہ استغفار ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اگر اس کی حفاظت کی جائے ، اس کو محفوظ طریق پر آگے بڑھایا جائے تو لاز ما وہ بندے پیدا کر دیتی ہے جس کو اللہ تعالی عباد الرحمن کہتا ہے یا یہ فرماتا ہے کہ وہ اولیاء اللہ ہو جاتے ہیں۔