خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد 16 265 الله ۔ ت کا جو مسلسل اس والی کیفیت ہے ستر بار استغفار والی - آ ر استغفار والی - آنحضرت صلى خطبہ جمعہ 11 را پریل 1997 ء استغفار تھا اس استغفار کے ذریعے آپ بلندیوں میں سفر کرتے رہے اور وہ بلندیوں کا سفر ہمیشہ جاری رہا۔ وہ اتنا عظیم بلندیوں کا سفر تھا کہ خاک شریا سے بھی آگے نکل گئی اور جہاں سب سے اعلیٰ مخلوق فرشتوں کی پر مارنے کی طاقت نہیں تھی وہاں آنحضرت کو خدا تعالیٰ نے رسائی بخشی اور اپنا وہ عرفان عطا کیا جو جبرائیل کو بھی نہیں تھا جو وحی لاتا ہے اور یہ سارا عرفان گناہ کے رد عمل میں اس کے خوف سے، اس سے بچنے کی کوشش سے استغفار کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔ پس لمحہ لمحہ پھونک پھونک کر قدم رکھنا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا یہ وہ ترقی کی راہیں ہیں جو گناہ سے پھوٹتی ہیں۔ پس گناہ کا وجود اس کے کرنے کے لئے ضروری نہیں، اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے۔ جب اللہ فرماتا ہے میں گناہ کو پیدا کرتا تو اس لئے نہیں کہ گناہ میں لوگ ملوث ہوں، اس لئے کہ گناہ سے : لہ گناہ سے بچنے کی کوشش انسان کو لا متناہی ترقیات عطا فر مادے۔ اب اس فلسفے کو مزید سمجھنے کے لئے بیماری اور شفا کا مضمون ہے جو آپ پیش نظر رکھ سکتے ہیں ۔ بیماری خدا نے پیدا ہی کیوں کی جیسا کہ گناہ کے متعلق سوال اٹھتا ہے گناہ پیدا ہی کیوں کیا۔ اگر بیماری پیدا ہی نہ ہوتی تو شفا کے لئے انسان کی کوشش کرنا اور اس کے بدن کا ارتقاء جو بیماریوں سے دوری کا سفر ہے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ گی کی شکل جو آغاز میں ایک ادنی معمولی ، ذلیل سے کیڑے کی حیثیت رکھتی مصیبتوں اور بیماریوں کی وجہ سے ترقی کی ہے۔ اب آنکھ کی روشنی کیوں نصیب ہوئی ۔ آنکھ کی روشنی کا نہ ہونا ایک بیماری ہے جس کے نتیجے میں انسان دکھ میں مبتلا ہوتا ہے۔ سو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ٹکریں مارتا ہے ، اپنی غذا کا پتا نہیں کہاں پڑی ہوئی ہے، زہر پہ منہ مارے گا ، غلط جگہوں پہ قدم رکھے گا۔ غرضیکہ بصارت حقیقت میں ایک شفا ہے اور اس کا فقدان بیماری ہے لیکن یہ بصارت بیماری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے کیونکہ زندگی نے جب آنکھ کے بغیر سفر شروع کیا ہے تو لاکھوں ، کروڑوں، اربوں ٹھوکریں کھائی ہیں اور ہر ٹھوکر کے نتیجے میں ایک شعور بیدار ہوا ہے، ایک ٹھوکر کے مقام کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے وہ صلاحیت کروڑ ہا سال میں ترقی کرتے کرتے اچانک آنکھ کی شکل میں رونما ہوئی اور یہ ایک ایسا سفر تھا جس کو خدا تعالیٰ نے باقاعدہ آرگنا ئز کیا ہے مگر تکلیف کا ازالہ کرنا صرف تکلیف سے بچنے کی صورت نہ بنی بلکہ ایک ایسی چیز عطا ہو گئی جو اس کی لامتناہی ترقیات کا ایک ذریعہ بن گئی۔