خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد 16 257 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء الله چاہئیں جو قرآن اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے زندہ نشان زندہ نشان ہیں مگر ابھی دکھائی نہیں دے رہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے مگر اصل مضمون یہی تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام فرماتے نہیں دے رہے۔ کبھی ان میں ہیں دونوں چیزیں اکٹھی پیدا ہوئی ہیں زہر ہے تو تریاق بھی ہے۔ مثال مکھی کے پروں سے دی گئی ہے ن کے پروں سے دی گی ہے مگر ساری دنیا میں ہر زہر کا ایک تریاق آپ کو دکھائی دے گا۔ کوئی زہرایسا نہیں ہے جس کا کوئی تریاق نہ ہو۔ اب دریافت کی بات ہے جو دریافت کرلے وہ کامیاب ہو جائے گا۔ جو دریافت نہیں کرے گا وہ زہر سے مغلوب ہو جائے گا۔ تو فرماتے ہیں: پریشانی کا ۔ وو 66 انسان کے بھی دو پر ہیں، ایک معاصی کا اور دوسرا خجالت ، توبہ، ہو سکتا ہے کہ پشیمانی فرمایا ہو اور سننے والے نے پریشانی سن لیا ہو مگر پریشانی بھی اطلاق پا جاتا ہے۔ یہ مضمون بھی اطلاق پاسکتا ہے۔ فرماتے ہیں انسان کے بھی دو پر ہیں ایک گناہوں کا اور دوسرا شرمندگی کا، خجالت کا اور خجالت ہو تو تو بہ پیدا ہوتی ہے اور اگر پریشانی ہے لفظ تو پھر اس میں ایک اور معنی پیدا ہو جاتا ہے تو تدریج ہو گی تو پہلے شرمندگی ہوگی تو تو بہ کی طرف توجہ ہوگی ۔ تو بہ کی طرف جب توجہ ہوگی تو اس وقت پریشان ہوں گے ۔ اس وقت پتا چل جائے گا کہ شرمندگی سے بات نہیں بننے والی وہ تو بہت گہرا نقصان پہنچ گیا ہے۔ اب ٹٹول کے دیکھا تو پھر پتا چلا کہ کتنا گہر انقصان تھا جس میں میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ تو جو نقصان پہنچ جائے اس پر پریشانی ہوا کرتی ہے اور پریشانی میں اس کو دور کرنے کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے تو پریشانی لگ جاتی ہے کہ اب میں کس طرح اس سے نجات پاؤں ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے جیسے ایک شخص جب غلام کو سخت مارتا ہے تو پھر اس کے بعد پچھتاتا ہے گویا کہ دونوں پر اکٹھے حرکت کرتے ہیں۔ ایک طرف گناہ کا دوسری طرف ندامت ، خجالت اور پھر تو بہ کا۔ زہر کے ساتھ تریاق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زہر کیوں بنایا گیا یہ چونکہ ایک بار یک فلسفہ ہے گناہ کا جس کو زیادہ تفصیل سے آپ کے سامنے رکھنا ہو گا اس لئے میں یہیں بات ختم کرتا ہوں ۔ آئندہ خطبے میں پہلے اس سوال کا جواب چھیڑوں گا کہ اگر گناہ کے ساتھ تریاق رکھا گیا ہے تو گناہ بنایا ہی کیوں گیا اور اگر بنایا گیا ہے تو حکمت سے خالی بات نہیں ۔ وہ کیا حکمت ہے یا اور حکمتیں ہیں انشاء اللہ ان باتوں کی طرف آئندہ خطبہ میں توجہ دوں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ