خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد 16 246 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997 ء بھی گناہ پیدا ہوتا ہے، اس طرح بھی گناہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ نعوذ بالله من ذالک آپ ان راہوں پر چل چکے تھے اس لئے کہ کوئی انسان بھی تو حید کی اعلیٰ منزل طے نہیں کر سکتا جب تک ان راہوں کے خطرات سے آگاہ ہو کر ان پر غالب نہ آچکا ہو۔ پس نبی کے تجربے عام گنہگار کے تجربے سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر عام لوگ سمجھ نہیں سکتے اس بات کو کیونکہ نبی پر ابتلاء کی بہت باریک راہیں آتی ہیں اور ہر راہ میں وہ کامیابی سے گزرتا ہے۔ ہر باریک سے باریک، چھپے سے چھپے خطرے کو بھی جانتا ہے، پہچانتا ہے اور ہر دفعہ شیطان کی آواز کو رد کرتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے تجربہ اس کا ایسا ہے جو گنہگار کو بھی کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ گنہگار کو اتنی باریک راہوں سے نہیں گزرنا پڑتا جن باریک راہوں سے نبی گزرتا ہے اور اس کو تقویٰ کی باریک را ہیں کہا جاتا ہے، گناہ کی باریک راہیں نہیں کہا جاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تجربے کو تقویٰ کی باریک راہیں فرمایا ہے تقویٰ سے مراد ہے بچنا۔ بنیادی معنی یہ ہے۔ تو وہ باریک راہیں جن سے نبی یا خدا کا نیک بندہ بچتا ہوا گزر جاتا ہے۔ اس لئے جب بیچ کے گزرتا ہے تو یہ بھی جانتا ہے کہ خطرہ تھا کیا؟ اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس خطرے سے بچا کیسے جا سکتا ہے۔ تو تجربہ اس کا ایسا عظیم الشان ، اتنا وسیع ہے کہ جب وہ بیان کرتا ہے تو ہر گنہگار سمجھتا ہے میرے دل کے اندر جھانک کر اس نے دیکھا ہے یعنی ہر باریک سے باریک کیفیت کو جانتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ بڑی آزمائشوں سے وہ اپنے ذہنی اور قلبی سفر میں گزر چکا ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہر غلط آواز کو رد کر کے گزرتا ہے، اسے قبول کرتا ہوا نہیں گزرتا اور یہی فرق ہے گنہگار اور معصوم نبی میں کہ گنہگار قبول کرتے ہوئے گزرتا ہے اور دنیا اس سے بھری پڑی ہے۔ نیک بندوں میں بھی کثرت سے ایسے ہیں جوان ٹھوکروں میں مبتلا ہوئے اور ٹھو کر کھا گئے لیکن پھر اٹھتے ہیں پھر بچ کے گزرتے ہیں۔ تو یہ ہے وہ استغفار کا مضمون جسے تمام تر باریکی کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ استغفار کے مضمون میں اگر غلطی کریں گے تو یہ خیال پیدا ہو گا کہ ابھی استغفار کی اور ابھی چھٹی ہوگئی ، گنا ہوں سے تو بہ کر لی اور بس ختم۔ توبہ استغفار کے ساتھ ممکن ہوتی ہے اور استغفار میں پوری طرح صفائی پیش نظر ہے یعنی ہر طرح کے گناہ کو اتنا اس کو دبا کے ذلیل و رسوا کر دینا کہ وہ پھر دکھائی تک نہ دے اور یہ ذلیل اور رسوا کر کے اس کو دبا ڈالنا یہ دراصل استغفار ہے اور آدم جن پتوں کے پیچھے چھپ رہا تھا وہ استغفار