خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد 16 225 خطبہ جمعہ 28 مارچ 1997ء مگر دوسروں کے لئے یہ پیغام بھی ہے کہ جو خدا اتنا عظیم فضل فرما سکتا ہے ایک پر ، وہ دوسرے پر بھی اور فضل فرما سکتا ہے اس لئے اللہ سے فضل چاہا کرو اور یہ نہ دیکھا کرو کہ فلاں کو فضل کیوں عطا کیا کیونکہ جس کو بھی خدا فضل عطا کرے اللہ کا کام ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کس حد تک فضل عطا کیا جائے گا۔ پس جماعت احمد یہ پاکستان کی شوری کو اس وقت جو غیر معمولی فضل عطا ہے اس کی وجہ میں نے آپ کے سامنے بیان کر دی ہے اس لئے ہر سال ہونے والی مجالس شوری اسی خطاب کو اپنا خطاب بنالیا کریں اور یہ خطاب جو میں مجلس شورٹی پاکستان سے کر رہا ہوں اس میں نصائح ہیں ، ان سب کے لئے ہیں جو مختلف ممالک میں مجالس شوری اس سال منعقد ہوں گی ۔ ۔۔ ویسے مجالس شوری سے تعلق میں جو خطبات ہیں ان کا تعلق کسی ایک سال سے نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی دائمی ضرورتوں سے ہے۔ مگر اس پہلو سے حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات بھی آج تک ۔ ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول کے ارشادات اگر چہ مجلس شوری اس طرح قائم نہیں تھی وہ بھی اب تک ہمارے لئے راہنما ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس رنگ میں مشوروں کی بنیاد ڈالی وہ بھی ہمارے لئے راہنما اصول ہیں اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم کا مجلس شوری سے متعلق ہماری راہنمائی فرما نا جس کی آگے یہ سب مثالیں بنی ہیں جس کی متابعت میں یہ سارے مجلس شوری کے طریق جاری ہوئے جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے پس اس زمانے سے شروع کر کے پیچھے کی طرف میں چلا ہوں تو یہ ساری چیزیں آخر قرآن تک جا پہنچتی ہیں اور قرآن کا بہترین مطلب حضرت اقدس محمد اقدس محمد علی جانتے تھے۔ اس پہلو سے آج کی مجلس شوری کے لئے جو میں نے چند نصائح کرنی ہیں ان کی بنیادا نہی آیات کریمہ پر ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمُ اس رحمت کی وجہ سے ، اس خاص رحمت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا فرمائی لِنْتَ لَهُمْ تو ان کے لئے نرم ہو گیا ، ان غلاموں اپنے ساتھیوں کے لئے نرم ہو گیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ اگر تو بد خو ہوتا اور غلیظ القلب سخت دل والا ہوتا لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ وہ تیرے ارد گرد سے چھوڑ کر تجھے چلے جاتے فَاعْفُ عَنْهُمْ پس ان سے عفو کا سلوک فرما وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ ان کے لئے بخشش طلب کرتا رہ وَ شَاوِرُ هُمْ