خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد 16 عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ 214 خطبہ جمعہ 21 مارچ 1997ء صلى الله جس جس معاملے میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت حقیقت میں کر رہا ہو خواہ ربوبیت کا معاملہ ہو خواہ رحمانیت کا، خواہ رحیمیت کا، خواہ مالکیت کا جہاں جہاں وہ سچا نکلے وہیں وہیں إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا جاگ اٹھتی ہے اور ان معاملوں میں ضرور خدا تعالی مدد فرماتا ہے۔ پس آنحضرت ما نے فرمایا کہ خدا کے جو بندے اس کے بندوں کی اعانت میں مصروف رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اعانت اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے۔ وہ خدا کے بندوں کی مدد کر رہے ہیں اللہ ان کی مدد کر رہا ہے خواہ پھر وہ منہ سے مانگیں ما ا نہ نہ مانگیں مانیں یہ یہ کام کام از از خو خود جاری ہو ہو جاتا جاتا ہے۔ ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جس کا ا رحمانیت ۔ کے ساتھ ایک بہت گہرا اور عجیب تعلق ہے جس کے متعلق میں انشاء اللہ آئندہ کبھی بیان کروں گا۔ رحمانیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بن مانگے دینے والا اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا بتاتی ہے کہ مانگو۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یہ بظاہر تضاد کیوں ہے؟ ۔ ایک اس کا حل یہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ جہاں جہاں بھی آپ خدا تعالیٰ کی صفات سے تعلق جوڑتے ہیں عملی زندگی میں وہاں وہاں مانگے بغیر بھی وہ دیتا ہے وہاں وہ رحمان بن کر نکلتا ہے اور جہاں آپ تعلق توڑ لیتے ہیں اس سے، وہاں بھی جب دیتا ہے اور دیتا ہے تو پھر بطور رحمن نہیں بطور رحیم دیتا ہے کیونکہ وہ مانگنے پر دیتا ہے۔ پس اس کے لئے وہ اعلیٰ درجے کی شرط نہیں ہے جو دوسرے معاملات میں خدا تعالیٰ نے عائد فرمادی ہے۔ مثلاً ایک مشرک ، پتا ہے کہ اس نے دوبارہ شرک کرنا ہے مصیبت میں پھنسا ہوا کہتا ہے میں تیری مدد مانگ رہا ہوں اس لئے مانگ رہا ہوں کہ اور مدد باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ تو کوئی وقت نہیں مانگنے کا، یہ تو کوئی طریقہ نہیں مگر پھر بھی مان لیتا ہے یہ اس کی رحیمیت سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے یعنی مانگنے پر عطا کر دیتا ہے۔ رحمانیت کے متعلق آنحضرت ﷺ کی احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات بھی اس مضمون پر خوب روشنی ڈال رہی ہیں کہ جو عِبَادُ الرَّحْمٰنِ بن جائیں وہ سوتے ہیں تو اللہ ان کے لئے جاگتا ہے ، وہ اپنے مفاد سے بے خبر ہوتے ہیں اور اللہ ان سے باخبر ہوتا ہے ان کی حفاظت کرتا ہے، ان کو پتا ہی نہیں کہ دشمن کیا سازش کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ مستعد ہو کر دشمن کی ہر سازش کو حملہ بننے سے پہلے پہلے نابود کر دیتا ہے۔ پس رحمانیت اور رحیمیت دونوں اپنے اپنے مقام پر جلوے صلى الله