خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد 16 16 خطبہ جمعہ 3 جنوری 1997ء اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزانہ گھروں میں جب اپنی بیوی بچوں کو بعض چیزوں سے غافل دیکھتے ہیں بعض چیزوں میں کمزور اور سست دیکھتے ہیں تو اگر آپ کمزوری اور سستی کی حالت سے درگزر کے نام پر بے توجہی کرتے ہیں۔ یعنی کہتے ہیں کہ بچے ہیں کمزور ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا بیوی نے کوئی زیادتی بھی کر دی تو کیا ہو گیا میں معافی دے دیتا ہوں ۔ یہ جو جذ بہ ہے بظاہر بڑا خوبصورت اور اچھا جذبہ ہے مگر اگر آپ یہ بھول جائیں کہ بعض دفعہ اس قسم کے احسان کے نتیجے میں گھروں میں بداخلاقیاں پنپتی ہیں اور بیویاں پہلے سے بڑھ کر بے لگام ہو جاتی ہیں۔ یا خاوند اگر بیوی بر وقت اس کی بد تمیزیوں کا نوٹس نہ لے اور اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہو اور ابتدا ہی میں نظام جماعت کے ذریعے یا دوسرے ذرائع سے اس کو بتا نہ دے کہ یہ تم کرو گے تو میں پھر ساتھ نہیں رہ سکتی اس وقت تک نہ بیویوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، نہ خاوندوں کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اعراض کا غلط معنی لیا جا رہا ہے۔ اعراض کی تعریف یہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی اور قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے کہ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: 41) کہ اگر آپ کسی چیز کو، اس کے جرم کو نظر انداز کرتے ہیں جس کی چوٹ آپ کے دل پر پڑتی ہے مگر نظر انداز کرنے کے نتیجے میں اس کی اصلاح ہوتی ہے تو یہ اجر کی بات ہے اس پر اللہ راضی ہو گا اور آپ کو جزا دے گا۔ لیکن اگر آپ نظر انداز کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جرم کا حوصلہ بڑھتا ہے اور بداخلاقی بڑھتی ہے اور گھر میں فساد پھیلتا ہے اور وہی فساد پھر ہمسایوں میں بھی پہنچے گارشتے داروں میں بھی پہنچے گاگلی گلی پھرے گا، آزاد ہو کر سارے معاشرے کو برباد کر دے گا تب آپ پوچھے جائیں گے اور اس عفو اور درگزر کا نام خدا تعالیٰ کے نزدیک جرم ہے، نیکی نہیں ہے۔ پس کتنی لطیف شرط ہے جس کے ذریعے آپ کو اپنے ہر فیصلے کی شناخت ہو سکتی ہے کہ اچھا تھا یا برا تھا۔ پس اگر آپ کا عفو گھر میں اصلاح کر رہا ہے اور گزرے ہوئے لمحوں سے آپ کے خاندان کا آنے والا لمحہ بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اگر آپ کی سختی اور پکڑ بر محل ہے اور اس کے نتیجے میں فساد کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا اور طبیعتوں میں درستی پیدا ہو جاتی ہے تو یہ انتقام قابل نفرت انتقام نہیں بلکہ مناسب اور برمحل ایسا ہے جس کو خدا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر زیادتی نہ ہو۔ ان باتوں کو سمجھ کر اس توازن کو قائم کرنا یہ وہ عدل ہے جو انسانی تہذیب کو قائم کرنے کا پہلا