خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد 16 198 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997 ء کی اے خدا اب تیرے سوا چارہ نہیں اور خاوند کا دل بدل گیا اور کایا پلٹ گئی ہے، ہمارے گھر کی تو حالت ہی بدل گئی ہے ہم تو ایک دنیا میں جنت حاصل کر چکے ہیں واقعہ یہ لکھتے ہیں۔ مگر وہ جن کو یہ دعا نصیب نہ ہو سکے یا جن کی بعض وجوہات کی بناء پر یہ دعا قبول نہ ہوان کے لئے پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کی دعا سکھائی ہے کہ اے خدا اس ظالم سے مجھے نجات بخش اور اس دنیا میں تو میں گھر نہیں دیکھ سکی، آخرت میں مجھے گھر دے دے۔ تیری محبت کی خاطر میں ایمان لائی ہوں اور یہ نہ ہو کہ دنیا میں بھی بے نصیب رہوں اور آخرت میں بھی بے گھر رہوں۔ تو ان کو بھی پھر جنت میں بالا خانے ضرور ملتے ہیں اور فرعون کی بیوی کی دعا میں تو بڑا ہی درد ہے یہ دعا بھی در استعمال کر کے دیکھیں پھر ۔ درد کی کیفیت یہ ہے کہ اس پر ایمان لائیں جس کو پالا تھا اور ایک بادشاہ کی بیوی ہوتے ہوئے بادشاہ کا عتاب لے لیا لیکن ایمان نہیں چھوڑا۔ تو ایک گھر قربان ہوا اس کے بدلے خدا بہت بڑا اور بلند تر گھر اس کو عطا کرے گا اور اسی ارادے کے ساتھ خدا نے دعا سکھائی۔ پس خدا جو دعائیں سکھاتا ہے اس میں قبولیت کا ارادہ شامل ہوتا ہے۔ پس اس بات کو یاد رکھیں تو اس دعا کی اور بھی قیمت بڑھ جائے گی جو دعائیں خدا براہ راست سکھاتا ہے کہ یہ دعا کر، یہ دعا کر جب تک عطا کرنے کا ارادہ نہ ہو سکھانے کا کیا مطلب ہے۔ پس اس دعا کے لئے ہر گھر میں مقبولیت کا ایک در کھلا ہوا ہے۔ کوئی گھر بھی نہیں جس کی چھت پر ایک در نہ کھلا ہو جو اس دعا کے ذریعے سے خدا تعالیٰ سے رحمتیں طلب کرنے کے لئے کھولا گیا ہے۔ تو یقین کریں جب خدا سکھا رہا ہے تو دینے کا ارادہ رکھتا ہے، بادشاہ جب کہتے ہیں مانگ جو مانگتا ہے تو جو مانگتا ہے پھر اس کو دیتا ہے جس حد تک دینا ہو لیکن اگر یہ بھی ساتھ سکھائے کہ یہ دے سکتا ہوں میں اور اس طرح مانگ تو پھر کیسے انکار کر سکتا ہے۔ تو یہ وہ دعا ہے جو خدا نے خود آنحضرت ﷺ کے ذریعے ہمیں پہنچائی ہے کہ یہ دعا مانگا کرو تو تمہیں دنیا کی جنت بھی ملے گی آخرت کی جنت بھی ملے گی اور آخری بات اس کے بعد ہے أوليك يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا - صبر اس میں ضروری ہے۔ یہ یا درکھنا کہ بعض دعاؤں میں اگر صبر نہ ہو تو اس صبر کے فقدان کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ ہر چیز کے لئے ہے اور ہر بیماری کی شفا کا بھی ایک وقت ہوا کرتا ہے۔ یہ میں بہت لمبے تجربے سے آپ کو بتاتا ہوں کہ ہر بیماری فوراً ٹھیک ہو نہیں سکتی اس لئے اگر دو دن دوائی کھائیں اور چھوڑ دیں تو ہرگز یہ