خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد 16 177 خطبہ جمعہ 7 مارچ 1997ء سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے کیا بے احتیاطیاں برتی تھیں ۔ پس محض غَفُورً ا رَّحِيمًا سمجھ کر خدا کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتے جب تک یہ نہ سمجھیں کہ وہ شَدِيدُ الْعِقَابِ (البقرہ: 197 ) بھی ہے، وہ سخت عقوبت بھی کر سکتا ہے۔ پس عِبَادُ الرَّحْمٰن کی دیکھیں کیسی کامل تصویر کھینچی گئی ہے، کیسی متوازن تصویر کھینچی گئی ہے۔ فرمایا وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا وہ تو ایسی ظالم چیز ہے تیرا عذاب، وہاں مستقل ٹھہر نا تو در کنار ، عارضی طور پر ٹھہرنا بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ بہت ہی برا عارضی ٹھکانہ ہے اور مستقل ٹھکانہ تو بے حد و حساب برا ہے۔ اب اسی قسم کے الفاظ خدا تعالیٰ جنت کے تعلق میں عِبَادُ الرَّحْمنِ کے لئے بیان فرماتا ہے اور ان پر کھول دیتا ہے کہ تمہارے لئے اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو عذاب کو قبول کر لو جو مستقر بھی برا ہو گا اور مقام بھی برا ہو گا یا بالا خانوں والی جنتیں حاصل کر لو جو عارضی طور پر بھی بہت پیاری ہیں اور ہمیشہ ٹھہرنے کے لئے بھی بہت ہی پیاری ہیں ۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قوَامًا کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے خرچوں میں بھی ایک توازن پایا جاتا ہے اور نہ وہ اسراف کرتے ہیں کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ کر دیں ، نہ وہ ہاتھ اتنا روک لیتے ہیں کہ کنجوس ہو جائیں ۔ یہ جو آیت ہے یہ ان تمام آیات کی طرح جو اس رکوع میں موجود ہیں عِبَادُ الرَّحْمٰنِ کے عنوان کے تابع ہیں ایک توازن پیش کر رہی ہیں اور سورۃ الرحمن میں اسی توازن کا ذکر ہے۔ سورۃ رحمان میں آسمان اور زمین کے تعلق میں اللہ تعالٰی بیان فرماتا ہے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ (الرحمن : 10 ) یہ تم وزن کا انصاف کے ساتھ تر از و برابر رکھو۔ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (الرحمن: 10,8) کہ ہم نے آسمان کو بلند فرمایا اور متوازن کیا تاکہ تم جو بلندی کے خواہاں ہو تم تو ازن میں نا انصافی سے کام نہ لینا اس میں کمی بیشی نہ کرنا کیونکہ ہر رفعت انصاف کو چاہتی ہے انصاف ہی سے ترقیوں کی ہر راہ شروع ہوتی ہے۔ پس قرآن کریم کے اندر ایک حیرت انگیز توازن پایا جاتا ہے۔ ایک ہی مضمون کو جہاں بھی شروع