خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد 16 12 خطبہ جمعہ 3 جنوری 1997ء مخل ہوتا ہے تو کاٹ دیں اور کاٹنے کی کوشش جو ہے وہ لمبا وقت لیتی ہے۔ کاٹ دیں کہنا تو آسان ہے مگر ان کا کٹ جانا آسان نہیں ہے۔ اس جدو جہد میں جب آپ داخل ہوں گے تو اس پہلو سے آپ کا ہر لمحہ پہلے لمحے سے بہتر ہوتا ہوا نظر آئے گا یا ہر وقت کا یونٹ جو بڑا بھی ہو تو پہلے یونٹ سے زیادہ بہتر ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ تو ایک تو نمازوں کے متعلق میں سمجھانا چاہتا ہوں بہت ہی اہم قابل توجہ امر ہے۔ میرے نزدیک اگر ہم اپنی عبادت کے متعلق غفلت کی حالت کو کاٹ پھینکیں اور پہلے تشخیص کریں تعیین کریں۔ تشخیص بیماریوں کی اور تعیین ان اقدامات کی جن کو استعمال کرتے ہوئے آپ نے بیماریوں سے شفا پانی ہے معین ایک راہ عمل اپنے لئے بنالیں اور اگر آپ کو توفیق ملی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آئندہ آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے ضرور بہتر ہوگا۔ انشاء اللہ دوسرا وہ جو معاشرتی بدیاں ہیں جن کے نتیجے میں بہت سی بداخلاقیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کے اوپر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ بارہا نصائح کے باوجود جن لوگوں پر نہیں اثر ہوتا ان پر نہیں ہوتا اور اس کے باوجود نصیحت کرتے چلے جانے کا حکم ہے۔ جو بد خلق اپنی بیویوں سے بدخلق ہیں، اپنی اولادوں سے۔ سے بد خلق ہیں، اپنے رشتہ داروں سے بد بد خلقی سے پیش آ۔ آتے ہیں وہ جب اس قسم کے خطبات سنتے ہیں تو اور بھی زیادہ اپنے گھر والوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم یہ نہ سجھتا کہ تم بچ جاؤ گے، تم ہو ہی گندے بے ہودہ لوگ ، میں تمہیں ٹھیک کروں گا اور یہ حوالے نہ دیا کرو مجھے اور وہ پھر بیچارے ہمیں خط لکھتے ہیں اور اسی طرح بعض بے چارے مرد ہیں جن کا حال یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے سامنے وہ اس طرح اف نہیں کر سکتے جس طرح بچوں کو حکم ہے کہ ماں باپ کے سامنے اف نہیں کرنی اور ان کی ہر بات کے اتنے غلام کہ اپنی اولادوں کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر بیٹھے ہیں ۔ بیوی غیر احمدی، باپ احمدی مگر ایسا زن مرید کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے جہنم کی طرف دھکیلا جاتا دیکھتا ہے اور مجال نہیں کہ جو آگے سے آواز بلند کر سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اخلاقی کمزوری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک زوجہ میں پائی تو پیغام چھوڑ دیا کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو ان کو کہنا اپنی چوکھٹ بدل لیں اور آپ نے طلاق دے دی ۔ وہ دین کے لحاظ سے مختلف دین نہیں رکھتی تھیں مگر جہاں دین کا اختلاف بھی ہوا اور اولاد کو واضح طور پر لادینی قدروں کی طرف لے جارہی ہو کوئی بیوی ۔ اس کے ساتھ چمٹے رہنے کا جواز ہی کون سا ہے؟ بہت پہلے