خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 167

خطبات طاہر جلد 16 167 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء کے بعد بلایا ہے۔ سال بعد پھر غا نا چلے گئے پھر پانچ سال ٹھہرے، پھر آئے پھر ایک سال رہے بیوی کے ساتھ پھر غانا اور پچیس سال کا عرصہ انہوں نے اس طرح خدمت دین میں اپنے گھر سے جدا گزارا ہے اور وہاں جو ان کے واقعات ہیں وہ تو حیرت انگیز ہیں کس طرح خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا رہا اور حیرت انگیز نشان دکھاتا رہا ہے اور بعض دفعہ ایک غریبانہ جو بات کہہ دیتے تھے، تعلّی نہیں ہوا کرتی وہ، غریبانہ خدا پر ایک توقع ہوا کرتی ہے اس توقع میں یہ بات کہہ دیا کرتے تھے، یہ ہوگا اور ہو جایا کرتا تھا۔ بہت ہی پاکیزہ وجود، سادہ زندگی بسر کرنے والے۔ جو خدمت کے مواقع ملے ہیں دین میں اصل تو وہی ہیں جو میدان عمل میں تھے۔ یہاں آکر جو نظام سے تعلق کی خدمت آپ نے سرانجام دی ہے اس میں نائب وکیل التبشیر رہے ہیں ، قائمقام وکیل التبشیر رہے ہیں۔ پھر قائمقام وکیل اعلیٰ رہے ہیں۔ پھر نائب صدر مجلس تحریک جدید بھی رہے ہیں ۔ مجلس افتاء اور کار پرداز میں کام کیا۔ ناظم دارالقضاء ر ہے۔ وکیل التعلیم رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور بے انتہاء رحمتیں نازل فرمائے ان پر، ان کی ساری اولاد پر اور اولا در اولا د پر۔ وہ یاد رکھیں کہ کسی باپ کے بیٹے تھے جس کی پیدائش بھی نشان تھی ، جس کا زندہ رہنا نشان تھا جس کی ساری زندگی ایک نشان بنی رہی ۔ تو احمدیت میں اس قسم کے ہیں جو گودڑیوں کے لعل ہیں اور کثرت سے ہیں۔ اس جماعت کا دنیا میں کون مقابلہ کر سکتا ہے جن کو عباد الرحمان نصیب ہو جا ئیں اللہ خود ان کی حفاظت فرمایا کرتا ہے۔ پس تم عباد الرحمن بننے کی کوشش کرو کیونکہ صرف پرانے عِبَادُ الرَّحْمٰنِ کی کمائی کھانے سے ہمارا گزارا نہیں چلے گا، ہمیں اگلی نسلوں کی پرورش، اگلی صدیوں کی ، ہزار سال کی پرورش کا ارادہ لے کر اٹھنا چاہئے اور اس لئے ہمیں اپنے گردو پیش ، اپنی ذات میں ہر جگہ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین دوسرے جو ہیں جنازے والے ان کی فہرست میرے سامنے ہے۔ ایک سلیمہ صاحبہ اہلیہ مکرم یوسف احمدی صاحب والده منیر الاسلام یوسف صاحب مبلغ انڈو نیشیا جو یہاں تشریف لائے ہوئے تھے اور رمضان کا سارا عرصہ ترجمے کی خاطر یہاں آئے ہوئے تھے اور اس کے بعد بھی یہیں ترجمے کی خاطر ٹھہرے رہے، ان کی والدہ اچانک علیل ہوئیں اور ان کے یہاں سے روانہ ہونے سے پہلے وفات پا گئیں۔ ان کے متعلق بھی یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے والد کو رد یا میں دکھایا تھا کہ