خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد 16 152 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء اگر یہ محبت نہ ہو تو وہ درود بالکل بے معنی اور لغو ہیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں ۔ زبان سے درود اٹھنا جن کی جڑیں دل سے نہ پھوٹ رہی ہوں وہ ایسے ہی درخت ہیں جن کی جڑیں اکھڑ چکی ہوں ان کا جڑوں سے کوئی تعلق نہ رہے وہ ہزار سال بھی رہیں تو پھل نہیں لا سکتے ۔ پس درود کی حقیقت محبت سے ہے اور محبت کے بغیر درود کے کوئی بھی معنے نہیں ہیں۔ صلى الله پس آپ فرماتے ہیں: ” آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو، سب حکموں پر کار بند رہو۔ یہ بھی ایسا سلسلہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی اور پھر ایسی غلامی کہ ایک بھی حکم سے انسان باہر نہ جائے۔ یہ بہت بڑا دعوی ہے اور اسے محبت آسان کر سکتی ہے اس کے بغیر یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے بار بار آپ کو یاد دہانی کروارہا ہوں کہ اس مضمون کی مشکلات کو بھی سمجھیں ۔ کہنے میں بہت آسان باتیں ہو گئی ہیں مگر جتنا غور کریں گے اس کی مشکلات آپ کو پہاڑوں کی طرح سامنے دکھائی دیں گی ۔ بعض دفعہ ایک عادت بھی انسان سنت اختیار کرنے کی خاطر چھوڑ نہیں سکتا اور وہ جو ہزاروں ایسی عادتوں میں جکڑے ہوئے ہوں ان کو یہ کہہ دینا کہ اطاعت کرو تو تم نجات پا جاؤ گے یہ حل کی طرف اشارہ کرنے والی بات تو ہے لیکن حل پر عمل کروانے کے لئے یہ بات کافی نہیں کیونکہ اگر کسی کو کہا جائے یہ دیکھو یہ پہاڑ ہے اس کی چوٹی پہ چڑھ جاؤ تو تمہیں دور دور کی عجیب چیزیں دکھائی دیں گی جو تم نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہوں اور وہ پہاڑ ایسا Steep ہو، اتنا تیزی سے اوپر چڑھ رہا ہو کہ بڑے بڑے رہا ماہرین کے بھی پتے پانی ہو جائیں اس کی وسعتوں کو دیکھ کر ، تو کوئی آدمی کہے میں نے تو تجھے دکھا دیا تھا کہ یہ رستہ ہے اور پھر تو نے نہیں سفر کیا یہ تیرا قصور ہے تو یہ جو معمہ ہے، مشکل کا اور آسان کا ،ان دونوں کا آپس کا تعلق ، اس سلسلے میں کچھ باتیں میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کی تھیں اب میں مزید اس مضمون کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسا محو ہوتا ہے کچھ بھی نہیں رہتا تب اس فنا کی حالت میں ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ اس حالت میں ان کا وجود درمیان نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا یعنی ان لوگوں