خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد 16 128 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء صلى الله الله ہے تا کہ تم ان تمام اعلیٰ رحمتوں کو پا جاؤ جن کی خاطر خدا نے تمہیں : خاطر خدا نے تمہیں پیدا فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ذریعے اس اعلان عام کروانے کی یہی حکمت ہے کہ تمہیں پتا چلے کہ یہ آیت اس طرف بلا رہی ہے قُلْ يُعِبَادِيَ اے میرے بندو د یکھو تو سہی کہ خدا کتنا بندود یکھو تو سہی کہ خدا کتنا رحمان ہے، کتنا رحیم ہے کتنی بخششیں کرنے والا ہے اور میں اس کا نمونہ تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔ پس آنحضرت ﷺ اس بات کے نمونہ تو نہیں تھے کہ کثرت سے گناہ نعوذ باللہ من ذالک سرزد ہوتے رہتے تھے اور معافی ہو جاتی تھی۔ نمونہ دیا ہے رحمتوں کی انتہاء کا۔ پس بخشش کے معاملے کو محض پہلی منزل کے طور پر پیش کیا گیا ہے يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا کا جو وعدہ ہے اس میں بخشش کے بعد کے مضمون کی طرف قُلْ يُعِبَادِيَ کہہ کر توجہ دلا دی گئی۔ بخشش پر راضی نہیں ہونا احسان کی طرف قدم بڑھانا ہے، احسان کی طرف قدم بڑھانا ہے اور اس طرح بڑھانا ہے جس طرح میرے بندے محمد رسول اللہ ﷺ نے قدم بڑھایا ہے، اتنا بڑھانا ہے کہ تم اس کے بندے کہلانے لگو۔ تم اس کے کامل غلام بن جاؤ ۔ فرماتے ہیں: ”سواس نے قُلْ يُعِبَادِيَ کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول ا ، دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ ایسه کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔ جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی طاعت میں محو ہو جائے کہ گویا اس کا غلام ہے تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنہگار تھا بخشا جائے گا۔“ صلى صلى الله پس بخشش بھی مشروط ہے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کاملہ سے اور یہ اطاعت کا ملہ نصیب تو رفتہ رفتہ ہوتی ہے مگر اس کا رجحان جو ہے وہ اسلِموا سے بنتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو محمدرسول اللہ ﷺ کی سنت کے سپرد کرے گا وہ اسلِموا کے صحیح معنے کا حق ادا کرے گا اور امر واقعہ یہ ہے کہ یہ وہ وجود ہے جس کے ساتھ سپردگی کا رشتہ جو ہے وہ ہر خطرے سے بچا لیتا ہے۔ کوئی انسان دنیا میں ایسا پیدا نہیں ہوا خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی جس کی حفاظت میں آکر انسان ہر قسم کے خطرات سے ایسے بچ سکتا ہے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی کی حفاظت میں آنے سے انسان خطرات سے بچتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں اصلى الله علی رو سے بچتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں: ” جاننا چاہیئے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَلَعَبْدُ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكِ (البقرة: 222) که یا در کو عبد کا لفظ صرف بندے یعنی خدا کے ان معنوں میں بندے کہ خدا کی تخلیق ہو صرف اس جگہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ ایسے شخص کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے