خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد 16 117 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء گئے ، اللہ بہت غفور رحیم ہے۔ جب گناہوں سے باز رکھنے کے لئے ان کو متوجہ کیا جاتا ہے (تو کہتے ہیں) اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ہر گناہ بخش دے گا۔ پس یہ جو غلط تاثر ہے اس کو اگلی آیات بہت وضاحت سے دور کر رہی ہیں ، بہت ہی صفائی کے ساتھ ایک ایک پہلو اس کا ، اس غلط تاثر کا رد فرمارہی ہے۔ چنانچہ فرمایا غفور رحیم ہے تو کیا کرو و انِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ پس اپنے رب کی طرف جھک جاؤ اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔ وَأَسْلِمُوا لَهُ اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دو مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ اس سے پہلے کہ عذاب تم تک آ جائے اور پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ تو اگر بخشش کا عام اعلان تھا تو معاً بعد اس آیت کا پھر کیا موقع ہے کہ جلدی خدا کی طرف جھکو اس وقت سے پہلے کہ عذاب تم تک آپہنچے اور پھر بخشش کا وقت گزر چکا ہو۔ پھر فرمایا وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ پھر فرمایا ہے وَانِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ یعنی اللہ کی طرف بڑھو اور جھک جاؤ تا کہ تمہارے گناہ بخشے جائیں تم نیکوکاروں میں شمار ہو لیکن یہ ایک مقام اور ایک مرتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بہتر تو ہے کہ عذاب سے پہلے اس سے بلند تر مرتبہ حاصل کر لو اور وہ یہ ہے وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ جو بھی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں جو بھی ہدایات تمہیں دی گئی ہیں ان میں سے ادنی پر راضی نہ رہو بلکہ تو بہ کے ساتھ اعلیٰ پر ہاتھ مارو۔ جو سب سے خوبصورت کا ہے جو سب سے سے اعلیٰ درجے کا ہے اسے اسے اپناؤ اپناؤ اور اور اسے اسے اپنی اپنی ذات ذات : میں جاری کرنے کی کوشش کرو۔ پھر فرمایا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ۔ پہلے یہ تھا تُنصَرُونَ اب اس آیت میں ہے تَشْعُرُونَ - تَشْعُرُونَ کا مضمون بتا رہا ہے کہ ایسا عذاب جس کے آثار ظاہر نہ ہوں اور اچانک آجائے ۔ یہاں لَا تُنصَرُونَ نہیں فرمایا کیونکہ لَا تُنْصَرُوْنَ کا مضمون یہاں اطلاق پاتا ہی نہیں ۔ پہلی آیت نے اس کو خوب کھول دیا کہ اگر اللہ کی طرف انابت نصیب ہو جائے تو پھر تمہیں مدد دی جائے گی۔ تم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کی رحمت، اس کی مغفرت کے سائے تلے آجاؤ گے، تمہارے گناہ بخشے جائیں گے۔ اگر عذاب آنے کے وقت تم نے توبہ کی تو وہ تو بہ رد کر دی جائے گی پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔ حصہ مگر جہاں فرمایا أَحْسَنَ وہاں لَا تَشْعُرُونَ والے عذاب کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ وہ لوگ جو توبہ کر لیتے ہیں لیکن نیک اعمال میں جو بہترین اعمال ہیں انہیں