خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 988 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 988

خطبات طاہر جلد 15 988 خطبہ جمعہ 20 دسمبر 1996ء کس کو کہتے ہیں اور مغفرت کا اور مغفرت کیا ہوتی ہے۔ بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ پس قرآن کے رو سے نہ ہر یک جگہ انتقام محمود ہے۔ (یعنی قابل تعریف ہے ) نہ ہر یک جگہ عفو قابل تعریف ہے بلکہ محل شناسی کرنی چاہئے اور چاہیئے کہ انتقام اور عفو کی سیرت بپابندی محل اور مصلحت ہو نہ بے قیدی کے رنگ میں ۔ یہی قرآن کا مطلب ہے“ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 ، صفحہ:30) تو بعض لوگ ایک ہی طرف کی بات سمجھ کر سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ ہر وہ شخص جو کسی بات پر مجاز بنایا گیا ہے اس سے آنکھیں بند کر کے ہر جرم کے نتیجہ میں عفو مانگو حالانکہ بعض جگہ عفو کی اجازت نہیں ہوتی اور اس وجہ سے اجازت نہیں ہوتی کہ یا تو اس کی بدی کی حوصلہ افزائی ہوگی یا ماحول کی حوصلہ افزائی ہوگی یعنی ماحول میں بدیوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ پس بعض ایسے لوگ جو سلسلہ سے کوکھل کا موقع ایسی بے وفائی کرتے ہیں کہ وہ تمام دنیا میں سلسلہ کے وقار کو نقصان پہنچا دیتے ہیں اور سلسلہ کی عزت کو ذلیل اور رسوا کر دیتے ہیں ان کو اگر معاف کیا جائے تو کل دس ہیں، پچاس اور بھی پیدا ہو جائیں گے اس لئے غلط حوالے دے کر مجھے میری ہی باتوں کا غلط رنگ میں پابند کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میں جو آپ کو سمجھا رہا ہوں سمجھتا ہوں کہ عفو کے کیا معنی ہیں اور کس موقع پر ہونا چاہئے اور مجھے پتا ہے کہ کہاں انسان کو عفو کا اختیار نہیں ہے۔ وہاں عفو کر نا خدا کی ناراضگی مول لینے والی بات ہے۔ پس یہ کہہ کر میں اب اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں ۔ باقی انشاء اللہ آئندہ جو جمعہ ہے وہ وقف جدید کے تعلق میں ہوگا کیونکہ ہما را وقف جدید کا سال ختم ہو رہا ہے۔ یہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ جماعتوں کو اگرچہ بار بار یاد دہانی کرائی جا چکی ہے مگر بہت سی جماعتوں کی طرف سے ابھی وقف جدید کی سالانہ رپورٹ نہیں موصول ہوئی تو اب تو بہت تیز رفتاری آچکی ہے مواصلات میں ۔ پس آپ فیکس کے ذریعے یا دوسرے ذرائع سے جو بھی جلدی رپورٹ پہنچانے کے ذرائع آپ کو میسر ہیں اپنی وقف جدید کی کارگزاری کی رپورٹ بھیجنے میں مزید تاخیر نہ کریں۔ جزاکم اللہ