خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 966
خطبات طاہر جلد 15 966 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء میرے زیر احسان آیا ہے کہ نہیں وہ شخص ۔ یہ تصور ہی جھوٹا اور باطل ہے۔ شکریہ سے ایسے بے نیاز ہو جاؤ کہ جس کو اُردو میں یوں ظاہر کیا ہے نیکی کر دریا میں ڈال‘ اس طرح نیکی کرو کہ گویا دریا میں غرق ہو گئی۔ پتا ہی نہیں پھر وہ گئی کہاں۔ انسانی لاشیں بھی نہیں ملتیں دریاؤں سے بعض دفعہ، نیکیاں کہاں ڈھونڈتے پھرو گے پھر ۔ تو یہ وہ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کا مضمون ہے جس کا اس مضمون سے گہرا تعلق ہے کہ تم جب احسان کرو تو اس احسان کے بدلے میں نہ بندے سے جزاء چا ہو، نہ اس لئے احسان کرو کہ اللہ تعالیٰ وہی مادی جزاء تمہیں اس دنیا میں دے دے، نہ اس لئے احسان کرو کہ وہ تمہارا جزاء شکریہ ادا کریں اور تمہارے نفس کو مطمئن کریں کہ ایک چیز تمہارے ہاتھ سے نکلی اس کی دوسری قدر چیز ہاتھ تمہارے ہاتھ میں واپس آگئی۔ پس حقیقت میں شکریہ کا مضمون ذات باری تعالیٰ کی خاطر نیکیوں سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ بنی نوع انسان بسا اوقات صرف اس لئے احسان نہیں کرتے کہ زیادہ ملے ، اس لئے کہ ان کی طبیعتوں میں نفاست پیدا ہو چکی ہوتی ہے مادے کے مقابل پر وہ جوابی شکریہ اور جوابی محبت کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لئے بظاہر وہ بے لوث خرچ کر رہے ہیں مگر حقیقت میں بے لوث خرچ نہیں کیا کرتے ۔ پنجابی کا محاورہ کئی دفعہ میں نے آپ کو سنایا ہے اور اس موقع پر پھر بھی یاد آ جاتا ہے کہ دستے پتر دامنہ کی چھناں مائیں کہتی ہیں جب بیٹا سویا پڑا ہے اس کا منہ چوم کے ہم کیوں اپنا وقت ضائع کریں اس کو پتا ہی نہیں لگتا تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے لیکن اللہ کی خاطر ستے پتر کے منہ بھی چومے جاتے ہیں۔ بتاہی لگتا وہ بنی نوع انسان جو غافل ہے محمد رسول اللہ ﷺ اس کے بھی محسن بن گئے ، ان کے لئے بھی بے انتہا رحمت بن گئے ، ان کے لئے كَاظِمِينَ الْغَيْظَ تھے جو ہر وقت آپ کو دکھ پہنچاتے تھے۔ وہ جن کے لئے کاظِمُ الْغَيْظَ تھے ، وہ وہ تھے جو ہر وقت آپ کو دکھ پہنچاتے تھے اور رحمت کا جو سلسلہ ہے وہ پھر بھی ان کے حق میں جاری رہا۔ اس طرح جاری رہا کہ ان کے حق میں جب اور کچھ پیش نہیں گئی تو دعا ئیں کرنا شروع کر دیں۔ اگر عفو نے کام نہیں کیا ، اگر درگزرنے کام نہیں کیا ، اگر نصیحت نے کام نہیں کیا تو پھر باری تعالیٰ کے حضور جھک گئے ۔ کہا اے خدا میں تجھ سے رحمت مانگتا ہوں میرے پیش نہیں جاتی، میرا بس نہیں چلتا ۔ تو اس سے بڑا دنیا میں جیسا کہ محاورہ ہے ستے پتروں کے منہ چومنے والا اور ہو کون سکتا ہے، ناممکن ہے۔ مائیں تو پتر کا منہ بھی نہیں چومتیں ۔ محمد رسول اللہ ﷺ تو ان