خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 939 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 939

خطبات طاہر جلد 15 939 خطبہ جمعہ مورخہ 16 دسمبر 1996ء قرآن کریم نے جو عفو کا مضمون بیان فرمایا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ بے وقوف ہو، غافل ہو۔ غفلت کا مضمون ایک بالکل الگ مضمون ہے جس کو قرآن کریم ایک الگ موقع پر اٹھاتا ہے۔ یہاں علم کے موقع باوجود اپنے دل کی کشادگی کی وجہ سے، وسیع حوصلے کی وجہ سے ، اس طرح رہو جیسے تم نے کچھ بھی نہیں واپنے دل کی کشادی کی وجہ سے ، وسیع حو صلے کی دیکھا۔ برتن ٹوٹا ہے گویا تمہیں آواز ہی نہیں آئی کسی جگہ کوئی داغ دھبہ لگ گیا ہے کوئی کھانا جل گیا ہے تو جیسے تمہیں پتا ہی نہیں چلا۔ تو یہ وہ روز مرہ کا گھر کے معاملات میں بیوی اور بچوں سے سلوک ہے تو پتا روزمرہ کا جو عفو کہلاتا ہے۔ یا درکھو عفو کے نتیجہ میں گنا ہوں اور جرائم کی حوصلہ افزائی نہیں ہوا کرتی ۔ عفو کے نتیجہ میں ایک شرم اور حیا پیدا ہو جاتی ہے اور جو بچے ہیں یا بیوی ہے وہ آخر سمجھ ہی جاتے ہیں ان کو پتا چل جاتا ہے کہ عفو ہو رہا ہے اور عفو کے نتیجہ میں کبھی بھی گناہ بے دھڑک اور بے حیا نہیں ہوا کرتے ۔ آنکھوں میں ایک شرم پیدا ہو جاتی ہے اور یہ شرم دونوں طرف ہوتی ہے۔ پس یہ عفو کا مضمون ہے جس کو گھروں میں جاری کرنا لازم ہے اس کے بغیر گھروں میں پاکیزہ فضا پیدا نہیں ہو سکتی ۔ بعض عورتوں کو میں نے دیکھا ہے ایک دفعہ میری موجودگی میں ایک عورت نے اپنے بچے کو کہا ایسا دو پتھر ماروں گی کہ منہ تیرا ادھر پھر جائے گا ۔ اب وہ اور بھی تھے اس لئے اس کو نہیں پتا چلا کہ وہ کیا بات کہہ گئی ہے بڑی بد تمیزی ہے، بڑی بد خلقی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ ایسی عورت کی ماں ایسی تھی ۔ اب یہ بھی یاد رکھو کہ اگر اپنے گھروں میں تم بدر سمیں ڈال دو گے تو بد رسمیں آگے تمہاری نسلوں تک پہنچیں گی اور آئندہ نسلوں کو بھی خراب کریں گی اور بد خلقی ایک ایسی چیز ہے جو کبھی پیچھا نہیں چھوڑا کرتی ۔ جن خاندانوں میں ماں باپ کی بد خلقی اثر انداز ہو جائے نسلاً بعد نسل وہ بد خلقی ۔ چلتی چلی جاتی ہے اور پھر وہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ بہت سے بد تمیز مرد جو عورتوں سے بد تمیزی کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ہماری شان ہے باپ بھی اسی طرح ہمارا کیا کرتا تھا اور بعض عورتیں جب بد تمیزیاں کرتی ہیں تو کہتی ہیں ہماری ماں بھی اسی طرح کیا کرتی تھی جن کی مائیں بد تمیز ہوں اور خاوند کے سامنے زبان کھولنے والی ہوں ان کی لڑکیاں اس پر فخر کر کے اس طریق کو آگے بڑھاتی ہیں کہ خبردار ! جو ہم سے ایسی بات کی ہم ایسی کیتیاں ہیں یہ کریں گی ، وہ کریں گی اور ایک