خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 931

خطبات طاہر جلد 15 931 خطبہ جمعہ 29 نومبر 1996ء ملبوس ہو جاؤ جو بے داغ چادر ہو یہ تمہیں سمجھانے کی خاطر کہ اللہ کو ایسی ہجرتیں قبول ہیں۔ تو ایک مہاجر نے دیکھو کیسی ہجرتیں پیدا کر دیں۔ کتنے ہزار سال پہلے کی بات ہے اور آج تک خانہ کعبہ کی طرف ساری دنیا سے لوگ کشاں کشاں کھچے چلے آتے ہیں ، وہی رنگ لیتے ہوئے وہی رنگ اپناتے ہوئے۔ اب یہ اللہ کی طرف سے نصیب کی بات ہے۔ انہیں مقام ابراہیم نصیب ہوتا ہے یا نہیں یہ الله ان کی نیتوں کا حال جانے مگر خدا کے حضور اس طرح حاضر ہونے والے کا الے کا کوئی نمونہ دنیا میں آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا ۔ ظاہری طور پر اپنی بدیوں کو چھوڑتے ہوئے آتے ہیں اگر واپس بدیوں کی طرف لوٹ جائیں تو ان کا نصیبہ۔ مگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم کے اس شہر کو از سر نو آباد کیا ہے اور وہ رونقیں بخشی ہیں جو رونقیں اس شہر کو چھوڑ چکی تھیں ۔ پس یہ ہجرتیں ہیں۔ ایک نیکیوں کی ہجرت ہے اور ایک بدیوں کی ہجرت ہے، ایک موقع ایسا بھی آیا تھا جب آنحضرت علی کی تشریف آوری سے پہلے وہ ساری نیکیاں جو ابراہیم کی وجہ سے اس شہر میں مجتمع ہوگئی تھیں ایک ایک کر کے روانہ ہوئیں نہ تو حید رہی ، نہ اخلاق حسنہ، نہ صفات باری تعالیٰ کا کوئی مظہر ، سارا مکہ ویران ہو گیا۔ تب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے پہلی ہجرت کی ہے پھر اور یہ ہجرت ابراہیم کی ہجرت سے بہت زیادہ شاندار اور بہت زیادہ بقاء رکھنے والی ہجرت تھی ۔ وہ ساری خوبیاں مکہ میں لوٹ آئیں ، وہ توحید کی آماجگاہ بن گیا۔ ہر حسن وہاں سے پہاڑی چشموں کی طرح پھوٹنے لگا، آب زم زم میں پاکیزگی پیدا ہوگئی اور سچائی کا پانی بن گیا۔ یہ وہ ہجرت ہے جو پھر اپنے عقب میں اور ہجرتیں لے کر آیا کرتی ہے۔ پس آپ کا فرض ہے بداخلاق کے شہر سے ہجرت کر جائیں اور اخلاق حسنہ، اخلاق مصطفوی کی طرف روانہ ہوں اور یقین رکھیں کہ آپ میں سے ہر ایک کی ہجرت اپنے پیچھے فوج درفوج بنی نوع نسان کو کھینچے لئے چلی آئے گی۔ تب یہ نیکیوں کا شہر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوبارہ قائم کیا ہے تب یہ سچا ہمیشگی کا شہر بن جائے گا۔ پھر یہ شہر ایک شہر نہیں رہتا یہ ساری دنیا میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے زمین کے کناروں تک شہرت پاتا ہے۔ پس خدا کرے کہ ہمیں یہ توفیق نصیب ہو کہ ہم ان کھوئے ہوئے اخلاق حسنہ کو جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے دنیا میں زندہ کئے گئے تھے ان کو پھر حاصل کر سکیں اپنے وجود کا حصہ بنا لیں اپنے گھر کو چمکائیں۔ جگنو کی طرح اگر تھوڑے سے ماحول کو نہیں تو اپنے قریب رہنے والی بیوی کو تو پتا