خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 919 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 919

خطبات طاہر جلد 15 919 خطبہ جمعہ 29 نومبر 1996ء ان آیات کا میں ترجمہ اب آپ کے سامنے رکھتا ہوں قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَ مَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بصیرتیں تم تک آ پہنچی ہیں اور بصیرتیں کسی صورت میں آئی ہیں یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نزول کی صورت میں نازل ہوئی ہیں ۔ یہ مضمون ہے جو آگے کھلتا ہے۔ تمہارے پاس ہر قسم کی بصیرتیں، طرح طرح کی عظیم الشان بصیرتیں جو تمہیں روشنی بخشنے والی ہیں تمہارے رب کی طرف سے آچکی ہیں ۔ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم لاعلمی میں وہ باتیں کرتے ہیں جو کر رہے ہیں۔ سب کچھ دیکھ چکے ہو ، سب کچھ جان چکے ہو جانتے بوجھتے ہوئے اگر اب تم کوئی غلط مسلک اختیار کرو تو نہ خدا پر کوئی الزام نہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کہ گویا انہوں نے سکھانے میں کمی کر دی تھی پھر جو سیکھے گا تو اسی کے فائدے میں ہوگا اور جو اندھا بن جائے گا تو اس کا اندھا پن اسی کے خلاف استعمال ہوگا ۔ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ حضرت محمد رسول الله ﷺ کے کلام کی صورت میں خدا کا کلام نازل ہورہا ہے۔ اچانک حضرت محمد رسول اللہ ﷺے مخاطب ہیں اور لیہ کہتے ہیں یہ سب کچھ ہے لیکن میں حفیظ نہیں ہوں تم پر ، جو سکھانے کا حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن حفیظ صرف خدا ہے اس کی حفاظت میں آؤ گے تو تم ان تمام باتوں سے استفادہ کر سکو گے جو میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ اگر خدا کی حفاظت سے باہر نکلو گے تو یہ باتیں تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی۔ وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَتِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس طرح ہم آیات کو ادل بدل کر مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں اور بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ وَلِيَقُولُوا تا کہ وہ کہیں دَرَسْتَ اے صلى الله علی سه ! صلى الله ا محمد تو نے سیکھنے کا حق ادا کر دیا، کمال درجے کا سیکھا ہے۔ اب یہ بھی تصریف الآیات کی ایک آنحضرت ﷺ کا کلام ہے خدا کی طرف سے جو نازل ہوا لیکن صلى الله عظیم الشان مثال ہے۔ ابھی آنحضرت ﷺ کا آنحضرت ﷺ کی طرف سے اللہ مخاطب ہو رہا ہے سب کو اور اب كَذَلِكَ نُصَرِفُ الآیت اللہ اپنے ہاتھ میں ضمیر کو لے لیتا ہے کلام کی باگ ڈور براہ راست سنبھالتا ہے۔ فرماتا ہے اسی طرح نُصَرِّفُ الآيَتِ ہم آیات کو ادلتے بدلتے ہیں وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ اور مقصد یہ ہے کہ بے اختیار ان کے دلوں سے آوازیں اٹھیں کہ اے محمد ﷺ! تو نے سیکھنے کا حق ادا کرد۔ احق ادا کر دیا ایسا پڑھا ہے کہ کمال کر دیا وَ لِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اور تاکہ اس مضمون کو اہل علم پر ایسا کھول دیں کہ صلى الله