خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 917
خطبات طاہر جلد 15 917 خطبہ جمعہ 29 نومبر 1996ء عظیم کارنامہ جو آپ کے سپر د ہے یہ پورا نہیں ہو سکتا، اس پر عمل ناممکن ہے۔ یہ ایک ہی پروگرام ہے کہ اپنے اخلاق کو بہت اعلیٰ درجہ کے اخلاق بنائیں جو عملی زندگی میں تمام ماحول کو روشن کرنے لگیں ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیں۔ آپ اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اجنبی کی حیثیت سے یہاں چلیں جیسے ان کے ہاں Aliens اترتے ہیں فرضی طور پر اور آکر اور بھی زیادہ ان کے اخلاق برباد کر جاتے ہیں۔ ان کا قتل و غارت، ان کا خون خرابہ، ان کا ظلم و ستم یہ ان بچوں کی زندگی کا کا مقصد بن جاتا ہے جو بڑی دلچسپی کے ساتھ ان پروگراموں کو دیکھتے ہیں مگر اور قسم کے بھی Aliens ہوا کرتے ہیں جن کا آنا دنیا کے لئے اجنبی ہو اور سب سے بڑے Aliens جو دنیا میں نازل ہوتے ہیں وہ وقت کے انبیاء ہیں کیونکہ ان کے آنے کے ساتھ ساری سوسائٹی کو بالآخران کے رنگ اختیار کرنا ہوتے ہیں اور ان کا خلق غالب آتا ہے، نظریات سے بڑھ کر ان کا خلق غالب آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کی دعا کے بعد سب سے زیادہ انقلابی طاقت آپ کا خلق بیان فرمائی ہے یہ خلق محمدی تھا جس نے لازماً غالب آنا تھا اور اجنبی دنہ انا تھا اور ابھی دنیا میں جب ایک اجنبی اترتا ہے تو شروع میں اس کی مخالفت ہوتی ہے وہ عجیب باتیں کرتا ہے، عجیب ادائیں دکھاتا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے اسے اپنے سے نکال باہر پھینکو۔ مگر بنیادی طور پر، انسانی فطرت کی گہرائی میں حسن خلق کے تقاضے ایسے داخل ہیں کہ کوئی دنیا کی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی ۔ بد سے بد سوسائٹی میں بھی دل کے اندر کی آواز یہی ہے کہ کاش اس ماحول کو حسن خلق روشن کر دیتا ، کاش ہمارے دن بدل جائیں ، کاش ہمارا فساد امن میں تبدیل ہو جائے۔ یہ آواز ہر مجرم کی آواز بھی ہے ہر انسان جو بد سوسائٹی کا ممبر ہے جو اس کے نتیجہ میں دن بدن نیچے اتر رہا ہے اوپر دیکھ کر اوپر چڑھنے کی تمنا اس کی کبھی نہیں مرتی۔ پس دل کی اس آواز کو انبیاء کے خلق ابھارتے ہیں اور بالآخر دل کی یہ آواز جیتا کرتی ہے۔ آج بھی میں نے اپنے ناروے اور سویڈن اور ڈنمارک کے دورے میں محسوس کیا ہے کہ یہاں اگر کوئی چیز تبدیلی لاسکتی ہے تو آپ کے خلق ہیں، آپ کے اخلاق ہیں۔ اخلاق حسنہ کے سوا یہ ممکن نہیں ہے اور اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباس میں نے آج صلى الله آپ کے سامنے رکھتے ہیں لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی کی علی