خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 900
خطبات طاہر جلد 15 900 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء کچھ تسلی پائیں کہ ہم نے بھی کسی بڑے انسان کی کوئی خدمت کی ہے لیکن ان باتوں کے باوجود تکبر کا نام و نشان نہیں تھا اور یہ وہ اصل عظمت کر دار تھی جس کا میڈل سے تعلق نہیں ہے۔ پس اس مضمون کو اس طرف منتقل کرتے ہوئے میں چند باتیں ڈاکٹر صاحب کے متعلق بیان کروں گا مگر اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں عامۃ الناس کے لئے بھی ایک عجیب پیغام ہے جو کوئی بلندی حاصل نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ پیغام ہے کہ تم بھی تو یا بڑے لوگوں میں ہو یا چھوٹے لوگوں میں ہو مگر بڑے بھی مٹ جانے ہیں ، چھوٹے بھی مٹ جانے ہیں اور بڑے بھی اپنی بڑائی کی شانوں کے ساتھ مٹا دیئے جائیں گے اور چھوٹے بھی جو قدریں بھی وہ رکھتے ہیں ان کے سمیت مٹا دیئے جائیں گے تو اس عارضی چیز کے لئے تم کیوں کسی سے حسد کرو کیوں تکلیف میں مبتلا رہ کر زندگی گزارو کہ فلاں تو اتنا بڑا ہو گیا ، فلاں نے اتنا علم حاصل کیا ، فلاں کو اس طرح دنیا نے عزتیں دیں۔ فرمایا دنیا، دنیا کی عزتیں یہ ساری چیزیں فنا ہونے والی ہیں، اس سے کیوں نہیں تعلق جوڑتے جس کی رضا کا چہرہ کبھی فنا نہیں ہوگا۔ یہ وہ مضمون ہے جو ان آیات میں ہر بنی نوع انسان کی محرومی کے زخموں پر ایک ایسا پھایا رکھتا ہے کہ ہر دکھ کا علاج ہے لیکن اگر انسان اپنی توجہ پھیرے۔ چنانچہ آج صبح ڈاکٹر صاحب کے لئے دعا کے وقت یہ مضمون میرے ذہن میں ابھر کر میری دعا کو ایک اور رخ دے گیا۔ میں نے کہا یہ دنیا کی عزتیں تو آج نہیں تو کل فنا ہونے والی ہیں کچھ بھی ان کا نہیں رہتا لیکن جو تیری رضا کی عزت ہے، جس کا وجْهُ رَبَّكَ میں ذکر آیا ہے وہ دائمی ہے۔ پس ان کے لئے قرآن کے الفاظ میں میں نے یہ دعا کی ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر:29) اے مطمئن روح ! اپنے رب کے حضور اس طرح حاضر ہو کہ راضِيَةً ہو۔ تو اپنے رب سے راضی ہو اور مَّرْضِيَّةً ہو ، پس وَجْهُ رَبَّكَ کی جو لازوال زندگی اور لازوال وجود کی خوش خبری ہے وہ ان دو لفظوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ کوئی انسان جو اپنے رب سے راضی نہ ہو وہ ہمیشگی نہیں پا سکتا۔ کوئی انسان جس سے خدا راضی نہ ہو وہ ہمیشگی نہیں پا سکتا۔ پس اس مضمون کے ساتھ ہی میری تو جہات بدل گئیں۔ یہ کہنے کی بجائے کہ آج ہم سے ایک ایسا وجود رخصت ہوا جس کے نتیجے میں ایک خلاء پیدا ہو گیا اور جماعت کو