خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد 15 874 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء اگر غیر معمولی کوشش نہ کرتے کیونکہ روپیہ بھی گر گیا اور دوسرے ملک اوپر سے آگئے اس کے باوجود پاکستان کا اوپر آنا ایک بہت بڑی خدا تعالیٰ کے فضل سے توفیق ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کرنسیوں کی مقامی لحاظ سے یہ جو کرنسیوں نے ترقی کی یا آگے پیچھے ہوئیں ان کے لحاظ سے اگر انہی کرنسیوں میں مقابلے مقام کئے جائیں نہ کہ پاکستانی روپے یا ڈالر میں ڈھال کر یا پاؤنڈوں میں ڈھال کر تو اپنی اپنی کرنسی کے لحاظ سے تو اس طرح پھر ہمیں توفیق مل جاتی ہے کہ پاکستان کو اول قرار دے دیں کیونکہ اپنی کرنسی کے اعتبار سے پاکستان نے پچاسی لاکھ اضافہ کیا اور ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپے ان کے بنتے ہیں۔ امریکہ نے دو لاکھ چھبیس ہزار پانچ سو پچاس کر کے جو اضافہ کیا ہے وہ بیاسی اعشاریہ اڑتیس فیصد (82۔38) ہے۔ پاکستان کا پاکستانی کرنسی میں تر اسی فیصد (83) ہے تو تھوڑا سا جس کو Neck to neck race کہتے ہیں نا کہ چوتھائی گردن آگے نکل گیا گھوڑا یا اتنا اس سے بھی کم اور Photo Finish ہے یہ ان دونوں کے درمیان ۔ جرمنی کو اس پہلو سے ان دونوں نے کافی پیچھے چھوڑا ہے یعنی چوبیس فیصد جرمنی کا اضافہ ہوا ہے لیکن ان کے حالات جس طرح متوازن چندے دے رہے ہیں ان پر شکوہ کوئی نہیں ہے۔ بہر حال ایک یہ ذریعہ تھا میں چاہتا تھا کہ پاکستان کو بھی کچھ تھوڑا سا مزہ آجائے اور پاکستان کو مزہ کے لفظ سے اتنا مزہ نہیں آتا جتنا ”سواؤ کے لفظ سے مزہ آتا ہے تو ایسی بھی تھوڑی سی بات کر دی کہ پاکستان کو بھی سواد آ جائے کہ ہاں ہم آگے نکل گئے ہیں ماشاء اللہ ۔ باقی اعداد و شمار کی اب اس وقت یہاں گنجائش نہیں ہے کئی پہلو سے تیار کئے گئے ہیں مگر وقت ختم ہو گیا ہے جمعہ کا ، میں نے بعد میں سفر پہ بھی جانا ہے۔ تو اس تمہیدی بیان کے بعد ان آیات کی روشنی میں جو میں نے تلاوت کی تھیں، میں تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز کرتا ہوں ۔ یہ مختلف دفاتر کے لئے مختلف نمبر کے سال ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ اسی طرح ایک پاک محبت کے مقابلے کی دوڑ میں نہ کہ ایک حسد کے مقابلے کی دوڑ میں، پاک محبت کے مقابلے کی دوڑ میں ہمیشہ آگے سے آگے بڑھاتا چلا جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین