خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 810

خطبات طاہر جلد 15 810 نطبه جمعه 18 اکتوبر 1996ء 3 زندگی بخشے گی نئی طاقتیں عطا کرے گی اور اپنے گرد و پیش کو آپ زندہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اگر یہ نہیں کرتے تو پھر آپ کی دعوت الی اللہ بے کار ہے، بے ثمر رہے گی۔ لوگ جو نظریاتی لحاظ سے بات مان بھی جائیں گے لیکن جو تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت ہے وہ عمل صالح سے ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے جو اچھے قول کی مثال دی ہے وہاں عمل صالح کے متعلق فرمایا وہ اس کو رفعت بخشتا ہے۔ تو اچھا قول ان معنوں میں بھی وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ ( حم السجدہ: 34) اس سے بہتر کون سا قول ہو سکتا ہے اس۔ س سے زیادہ خوبصورت کون سی بات ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے اللہ کی طرف بلا رہے ہوں لوگوں کو ۔ ایسا بلانا ہے جس پر دنیا کا کوئی انسان اعتراض نہیں کر سکتا۔ جو نہیں بھی مانتے وہ بھی نہیں اعتراض کر سکتے ۔ وہ کم سے کم گردن جھکا کے سنیں گے ۔ کہیں گے ہم مانتے تو نہیں خدا کو لیکن آدمی اچھا ہے جو خدا کی طرف بلا رہا ہے۔ اس دعوت کی طرف بلائیں تو یہ قول حسن یعنی سب سے خوبصورت قول ہے مگر اس کو رفعت کیا چیز بخشتی ہے آپ کا نیک عمل ۔ اگر نیک عمل ساتھ نہ ہو تو بعض دفعہ یہ قول الٹا پڑ جاتا ہے۔ بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں حالت دیکھو ذرا بلا کس طرف رہا ہے اور اپنا کیا حال ہے۔ گنجا سر کے گنجے پن کی دوائیں بیچتا پھرتا ہو تو کون ہے جو اس کی ہو طرف توجہ دے گا سوائے اس کے کہ لوگ ہنسیں اور مذاق اڑا کر الگ ہو جائیں ۔ اس لئے آپ کا بنیادی فرض ہے کہ یہ روز مرہ کی حکمت کی عام باتیں ہیں ان کو تو سمجھیں ان میں کوئی ایچ بیچ نہیں ، کوئی گہرا فلسفہ نہیں ہے، بڑی معرفت کی بات نہیں ہے، سادہ سی بات ہے کہ ان جس کی طرف آپ نے بلانا ہے اس کی طرف بڑھنے کی خود کوشش شروع کریں اور جب آپ کوشش شروع کریں گے تو اس کے نتیجہ میں ایک تو برکت وہ ہے جو سچائی کی برکت ہوتی ہے۔ ایک انسان جب یقین کرتا ہے کہ اللہ ہی ٹھیک ہے، اللہ ہی کی طرف جانا ہے تو اس کے اندر ایک سچائی کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور اس کی کوششوں کے بعد وہ سچائی کی طاقت ہے جو اس کے قول کو نصیب ہوتی ہے۔ سچے آدمی کی بات دنیا سنتی بھی ہے اور دنیا پر وہ اثر انداز بھی ہوتی ہے اور یہاں سچائی کا ایک معنی ہے جو آپ کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ * کئی لوگ ہیں ویسے سچ بولتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کو جھٹلا رہا ہے۔ سچے لوگ ہیں مگر خدا کی طرف بڑھنے کے لئے وہ مخلصانہ کوشش نہیں کرتے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں تو جب وہ خدا کی