خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد 15 792 خطبه جمعه 11 اکتوبر 1996ء اس لئے ان سے ناامید ہو جانا ، ان سے تبلیغ کا رابطہ قائم نہ کرنا یہ بھی بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔ مگر اسلام کی طرف اگر آپ ان کو بلاتے ہیں تو یہ بھی قرآنی حکمت کے خلاف ہے کیونکہ وہ لوگ جن کو خدا پر یقین نہ ہو وہ کسی مذہب کی طرف آئیں گے کیوں؟ پہلی بنیاد تو خدا ہے یعنی خدا پر ایمان کا عقیدہ تو آپ لوگ بے شمار بحثیں ان سے کرتے رہیں کہ عیسائیت ایسی ہے، اسلام ایسا ہے ۔ اسلام میں یہ فضیلت ہے ، عیسائیت میں یہ نقائص ہیں ۔ وہ لوگ جو اپنی دانشوری اور عقل کی وجہ سے خدا ہی سے پیچھے ہٹ چکے ہیں کیونکہ خدا کا غلط تصور ان کو پیش کیا گیا وہ آپ کے اسلام کی کیا قدر کریں گے۔ شرافت کے ساتھ نرمی کے ساتھ باتیں سنیں گے اور ہاں میں ہاں بھی ملا دیں گے اگلا قدم نہیں اٹھائیں گے۔ اس لئے جہاں بیماری ہے اس جڑ کو پکڑ نا ضروری ہے۔ پس دعوت الی اللہ کا مطلب یہ ہے ان کو اس خدا کی طرف واپس لاؤ جوان سے کھو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی طرف واپس لے کے آؤ۔ اگر یہاں لے آؤ گے تو پھر رسالت کا ذکر شروع ہوگا اس سے پہلے نہیں ہو سکتا۔ یہی سبق خدا تعالیٰ نے ہمیں کلمہ میں دیا لا اله الا الله محمد رسول اللہ اور صلى الله لا اله الا اللہ پر اتناز ور دیا گیا کہ ایک موقع پر آنحضرت پر زور ﷺ نے فرمایا : من قال لا اله الا الله ، دخل الجنة (صحیح ابن حبان، کتاب الايمان ، باب فرض الايمان ، رقم الحديث: 171) وہاں اپنی رسالت کا بھی ذکر نہیں فرمایا کیونکہ لا الہ الا اللہ میں دراصل تمام قسم کی رسالتوں کا تصور موجود ہے۔ اگر اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس معبود سے رابطہ ہوگا کیسے؟۔ وہ رابطہ ہے جس کا نام رسالت ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کے بعد لا اله الا الله کے بعد اگلا سبق یہ سکھا یالا الله الا الله محمد رسول الله يا اشهدان محمداً عبده ورسوله - تو رسالت کی طرف آپ پہلے بلانا شروع کریں ۔ لا اله الا اللہ کی طرف توجہ نہ ہو اور خالی ایسی تختی پر جو چکنی ہو چکی ہو اس پر لکھنے کی کوشش کریں ، کچھ بھی لکھا نہیں جائے گا ۔ وہ چکناہٹ دہریت کی چکناہٹ ہے۔ اس کو پہلے دھوئیں اور صاف کریں پھر آپ دیکھیں کہ کس طرح یہ اسلام کی طرف مائل ہوں گے اور دانشور اگر خدا کا قائل ہوگا تو اس کے لئے اسلام کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں کیونکہ وہ لوگ جو عیسائیت میں متشدد ہیں اکثر بے وقوفی کی وجہ سے ہیں انہوں نے اپنے دماغ بند