خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 775 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 775

خطبات طاہر جلد 15 775 خطبہ جمعہ 14اکتوبر 1996ء اکثر اپنی زندگی کو کسی موت پر آگے بڑھانے کی بجائے ماضی کی موتوں کی طرف دھکیل دیا دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہ قو میں مردہ لوگوں کے ساتھ زندہ ہونے لگ جاتی ہیں یعنی ان معنوں میں نہیں کہ ان کی خوبیوں کو لے کر خود ان نیکیوں کو آگے بڑھائیں بلکہ مردوں کے تصور سے اپنے آپ کو ایسا باندھ لیتی ہیں کہ گویا ہماری زندگی ان کی زندگی تک تھی اور اب بھی اگر ہم زندہ ہیں تو ان کے واسطے زندہ ہیں۔ خوبیوں سے نہیں ، ان کی عطاؤں سے زندہ ہیں۔ پس جتنے بھی بزرگ ہیں جن کی قبروں پر سجدے کئے جاتے ہیں، جتنے بھی داتا ہیں جن سے مرادیں مانگی جاتی ہیں یہ سارے اس برعکس صورت کا مظہر ہیں کہ قوم اپنی زندگی ماضی کے حوالے کر کے ایک مردہ جسم کو آگے دھکیلتی چلی جاتی ہے، جو کتنا مختلف مضمون ہے اس مضمون سے جو قرآن کریم آپ کے سامنے رکھتا ہے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھو اور بڑھتے چلے جاؤ۔ ایک کامل وجود سے دوسرے وجود پیدا ہوں ۔ لفة صلى الله صلى بار بار میں اس مضمون کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آنحضرت ﷺ کے حوالے سے رکھتا ہوں ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ الح : 30) - مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ﷺ ہیں اور اکیلے نہیں رہنے والے وَالَّذِينَ مَعَةً پہلے کہاں تھے جب ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا اکیلے تھے لیکن آپ اٹھے تو آپ کے ساتھ جو لوگ اٹھے وہ آپ نے اٹھائے ہیں ۔ جو معیت والے خوش نصیب یہاں مذکور ہیں وہ معیت محمد رسول اللہ نے خود ان کو عطا کی اور آپ کی بدولت ، آپ کی قوت قدسیہ سے وہ لوگ ز ۔ زندہ ہو ہو کر آپ کے ساتھ شامل ہونے لگے ۔ پس یہاں وہ Hydra کا برعکس مضمون ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا کہ مومنوں میں سے اگر ایک سردار پیدا ہوتا ہے تو وہ کم نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خود پھیلتا چلا جاتا ہے اور یہ مضمون ایک فرق رکھتا ہے Hydra کے ساتھ ۔ Hydra میں اس کا بڑھنا اس کی موت سے لازماً وابستہ ہے۔ مگر مومن کی نشو و نما موت سے پہلے یقینی طور پر ہو کر اس بات کو ناممکن بناتی ہے کہ ان کا سردار مر جائے تو قوم بھی ساتھ مر جائے۔ اپنے جانے سے پہلے اپنے زیر تر بیت ، اپنے پروں کے نیچے پلے ہوئے لوگوں کو وہ وجود چھوڑ جاتا ہے۔ تب ہی خدان تب ہی خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کے ساتھ آپ کے صحابہ کے اسوہ کا ذکر فرمایا۔ یہ تو مراد نہیں تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے موجود ہوتے ہوئے کسی اور اسوہ پر نظر پڑ سکتی تھی ۔ وہ تو مٹے ہوئے اسوہ نظر آتے تھے۔ وہ ایسے تھے جیسے سورج کے سامنے