خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 772
خطبات طاہر جلد 15 772 خطبہ جمعہ 14اکتوبر 1996ء وہی ایک ہے جو باقی رہنے والا ہے ، وہی ہے جو باقی رہے گا۔ باقی سب ثانوی وجود یہاں تک کہ اپنے نفس کا احساس تک سب کچھ مٹ جانے والا ہے ۔ پس اس کی تیاری کرنی چاہئے کہ وہ وقت جو سب پر آنا ہے اس کی فکر کریں۔ جو بھائی اچھے حال میں خدا کی رضا کی راہوں پر چلتا ہوا رخصت ہو گیا کی اس کی فکر کا تو موقع نہیں اپنی فکر کا موقع ہے کیونکہ ابھی ہمارا دار العمل باقی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نیک اعمال پر ، اگر کچھ ہیں قائم رہیں گے کہ نہیں رہیں گے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اپنے بداعمال کے داغ دھو سکیں گے کہ نہیں دھوسکیں گے۔ وہی جانتا ہے کہ کس صورت میں ہم اس آواز پر لبیک کہیں گے جو سب کو آنے والی ہے۔ اسی لئے انا اللہ کے تعلق میں میں نے پہلے بھی یہ بات آپ کے سامنے کھولی تھی کہ جب ہم انا للہ پڑھتے ہیں تو پہلے اپنے اوپر پڑھا کریں اور مرنے والے پر اس کا اطلاق آپ پڑھیں نہ پڑھیں ویسے ہی ہوتا ہے، وہ تو لوٹ بھی گیا ۔ انه لله وانه اليه راجعون تو نہیں فرمایا کہ یہ مرنے والا اللہ ہی کی طرف سے آیا تھا اور اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ اس مضمون کو تو خدا نے نکال ہی دیا ہے یہاں سے۔ فرمایا اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم جو زندہ ہیں اس وقت ، ہم بھی تو اسی کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب بھی اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ پس جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان کو اپنی فکر زیادہ چاہیئے جانے والے کی فکر کے مقابل پر کیونکہ جب خدا نے اس کے اعمال کا دروازہ بند کر دیا تو پیچھے رہنے والوں کا اس میں دراصل کچھ بھی دخل باقی نہیں رہتا۔ دعائیں ہیں ، دعا ئیں تو ہوتی رہتی ہیں ہمیشہ لیکن زندوں کے لئے پہلے اور مرنے والوں کے لئے بعد میں ۔ ہر جنازے پر آنحضرت ﷺ کا یہی طریق تھا کہ پہلے اللهم اغـفـر لـحـيـنـا وميتنا اے اللہ ہمارے زندوں پر اپنی مغفرت فرما اور میتوں، مردوں کی بھی مغفرت فرما۔ تو جس مضمون کو حضور اکرم ﷺ نے جہاں بیان فرمایا، جہاں رکھ دیا نا ممکن ہے کہ اس کو اپنی جگہ سے اٹھا کہ ہ کر کسی اور جگہ رکھا جائے اور بد زیبی پیدا نہ ہو۔ وہ محل جہاں رسول اللہ ﷺ نے ایک لفظ رکھ دیا وہیں رہتا ہے اور اس کو ہٹایا نہیں جا سکتا ، اس کو ہلا یا نہیں جاسکتا۔ پس اس سے پیغام ہمیں یہ ملنا چاہئے کہ ہر وہ موت جو کسی نیک صالح انسان کی موت ہو جس نے اپنی زندگی کو خدا کے لئے خدمت میں وقف کر رکھا ہو اس سے سب سے پہلی توجہ اپنے اعمال کی طرف پھرنی چاہئے اور اپنی بقیہ زندگی کی بے اختیاری کی طرف