خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 734

خطبات طاہر جلد 15 734 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء اس کے کہ میں جیل میں چلا جاؤں۔ پس جیل سے بچنے کی دعا نہیں مانگی تھی جب ان کے فتنے سے بچنے کی دعا مانگی کہ خدا ہمیں بچالے۔ تو بعض لوگ اس کے بعد جب پڑھتے ہیں کہ اس کے باوجود جیل میں چلے گئے اور فتنہ نا کام نہ ہوا تو وہ فتنہ جیل بھیجنے کا فتنہ نہیں تھا ، فتنہ جیل سے باہر رکھ کر گنا ہوں میں قید کرنے کا فتنہ تھا۔ اس قید پر جو گناہوں کی قید تھی آپ نے مادی قید کو تر جیح دی اور اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی تائید فرمادی ۔ اگر خدا تعالیٰ سمجھتا کہ اس نبی کو علم نہیں ہے یہ دعا اس کو نہیں کرنی چاہئے تھی تو اللہ تعالیٰ دوسرا مضمون سمجھا دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ ہاں جیل ہی میں جانا بہتر ہے لیکن اس پناہ گاہ کے ساتھ جو اور بہت سی رحمتیں وابستہ تھیں وہ ساری عطا کر دیں۔ اس لئے جب میں پناہ گاہ کی بات کرتا ہوں کہ اس کو معین کرو تو اس لحاظ سے کہ وہ ایک حقیقی دعا بنے گی پھر معین ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ جان لے گا کہ تمہارے دل میں کتنا خلوص ہے ۔ کس حد تک تم ان گناہوں سے بچنے کے خواہاں ہو۔ پھر جو مشکل قربانیاں دکھائی دیتی ہیں نہ صرف یہ کہ وہ آسان ہو جائیں گی بلکہ ان کے اندر بے شمار رحمتیں اور برکتیں رکھ دی جائیں گی۔ ورنہ اللہ تعالیٰ یہ کہہ ورنہ سکتا تھا کہ جیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں میں تمہیں ویسے بچالوں گا۔ مگر جیل کی قربانی کو قبول کرنے میں دیکھیں کتنی لامتناہی حکمتیں تھیں ۔ ایک مثلاً یہ کہ سات سال تک جس تقحط کے عذاب میں مصر نے مبتلا ہونا تھا اور گردو پیش کے تمام ممالک نے بھی بھو کے مرنا تھا۔ اس ابتلاء سے یوسف کی قید نے بچایا ہے، باہر رکھ کر اللہ تعالی اگر بچانے کے سامان کرتا تو یہ واقعہ پیدا ہوا ہے جس میں جیل بہانہ بنی ہے۔ بادشاہ کی رؤیا کا حضرت یوسف تک پہنچنا ی ممکن نہیں تھا عام حالات میں کون عزیز مصر کے پاس بادشاہ کا یہ پیغام لے کے جاتا کہ اس رؤیا کی تعبیر بتاؤ۔ پس خدا تعالیٰ کی جو حکمتیں ہیں وہ بہت ہی عظیم اور حیرت انگیز ہیں انسانی عقل کی رسائی وہاں ہو ہی نہیں سکتی جب تک ان حکمتوں کو ہم رونما ہوتے نہ دیکھ لیں ۔ پس دیکھو کتنا بڑا انعام ہوا ہے یوسف کی قربانی کا، اس دعا کا، وہ نہایت ہی خوف ناک پناہ گاہ جو اپنے لئے مانگی ہے چونکہ اخلاص سے مانگی گئی تھی وہ دعا قبول کی گئی اور اس کے ساتھ ایسی برکتیں رکھ دی گئیں کہ وہ جیل کے چند تنہائی کے سال ان برکتوں کے مقابل کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتے اور یہ جو حضرت یوسف کی پناہ گاہ تھی غور کریں یہ ساری دنیا کی پناہ گاہ بن گئی۔ دور دور سے جو پناہ ڈھونڈتے ہوئے آتے تھے وہ حضرت