خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 727

خطبات طاہر جلد 15 727 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء وو ۔۔۔ یاد رکھو زبان سے خدا کبھی راضی نہیں ہوتا اور بغیر ایک موت کے کوئی اس کے نزدیک زندہ نہیں ہوتا ۔ جس قدر اہل اللہ ہوتے ہیں سب ایک موت قبول کرتے ہیں اور جب خدا ان کو قبول کرتا ہے تو زمین پر بھی ان کی قبولیت ہوتی ہے۔۔۔“ یہ کہہ کر وہ لوگ جو اپنے رشتوں ، اپنے اثر رسوخ کے تعلقات کو توڑنے سے گھبراتے ہیں ان کو تسلی بھی دیدی کہ جس موت کی ہم بات کرتے ہیں وہ ایسی خوفناک چیز نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو کہ انسان سب دنیا سے کٹ جائے سب دنیا کے تعلقات توڑ دے۔ اللہ تعالی موت کو قبول کرتے ہی وہ نئی زندگی ضرور بخشتا ہے جو مادی موت سے بھی متعلق ہے اور مرنے کے بعد اسے مردہ نہیں رہنے دیتا۔ جس خدا کا یہ قانون ہے کہ ہر مردے کو جی اٹھائے گا دوبارہ اٹھا لے گا وہ اس دنیا میں بھی تم کا سے یہی سلوک کرے گا اس لئے موت سے ڈرتے کیوں ہو ۔ مرکر دیکھو پھر تمہیں پتا چلے گا کہ تمہارے مراتب ، تمہارے دوستیوں کے تعلقات ، تمہارے اردگرد ماحول پر جو تمہیں شان و شوکت نصیب ہوئی تھی اس پر بھی موت آجائے گی ۔ وہ ایسی حقیر اور بے معنی چیزیں دکھائی دیں گی کہ جو چیزیں خدا تمہیں دے گا ان کے مقابل پر ان کی کوئی حیثیت دکھائی نہیں دے گی کیونکہ فرماتے ہیں وو ” جب خدا ان کو قبول کرتا ہے تو زمین پر بھی ان کی قبولیت ہوتی ہے۔ پہلے خدا تعالیٰ خاص فرشتوں کو اطلاع دیتا ہے کہ فلاں بندے سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ سب اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں حتی کہ اس کی محبت زمین کے پاک دلوں میں ڈالی جاتی ہے اور وہ اسے قبول کرتے ہیں جب تک ان لوگوں میں سے کوئی نہیں بنتا تب تک وہ پیتل اور تانبا ہے اور اس قابل نہیں کہ اس کی قدر کی جاوے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ: 620) پس موت کا جو تصور ہے وہ بڑا بھیانک ہے مگر اس تصور کے بھیانک پن میں کمی تب آتی ہے اگر جی اٹھنے کا مضمون ساتھ باندھا جائے اور جی اٹھنے کا جو مضمون ہے وہ مرنے کے بعد ہی انسان مشاہدہ نہیں کرتا اس دنیا میں دیکھ سکتا ہے۔ اس لئے جب میں آپ کو جی اٹھنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں یعنی دوبارہ زندہ ہو جانے کی طرف ، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی زندگی عطا کرنے کی بات کرتا ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حوالہ اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ آپ نے