خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد 15 725 خطبہ جمعہ 13 استمبر 1996ء کیا ہے کسی وقت مجھ سے جدا ہو سکتی ہے۔ یہ دولت یا وہ بچے یا عزیز جو مجھے پیارے ہیں کسی وقت یہ مجھ سے جدا ہو سکتے ہیں یا میں ان سے جدا ہو سکتا ہوں تو اس کو تو ہر وقت کا دھڑ کا لگ جائے گا اور جتنا زیادہ وہ اگلی دنیا کے خیال سے غافل ہوگا اتنا ہی یہ دھڑ کا شدید اور ظالم دھڑ کا ہو جائے گا۔ بعض لوگوں یہ و کی کو جب یہ وہم پیدا ہو جائے کہ ہمارے بچے نہ مرجائیں تو ان کی اپنی زندگی موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ کئی عورتیں جن کی بیماریاں جو اپنے علاج کے لئے کئی دفع ملتی ہیں یا خط لکھتی ہیں ان میں ایک یہ بھی بیماری ان میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہمارا خاوند واپس ہی نہ آئے شاید ۔ ہمارا بچہ نہ مر جائے ، اب سکول گیا ہے تو پتا نہیں اس پر کیا آفت ٹوٹ گئی ہے اور اس وہم میں جو حقیقت بھی بنا نہیں ، ہو سکتا ہے اس کی ساری زندگی کبھی بھی نہ بنے ، اس میں وہ اپنی زندگی کی موجود حقیقتوں کو ذبح کر دیتی ہے اور نہایت وحشت کی حالت میں زندگی بسر کرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ دیکھو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر یہ خیال دل میں پختہ ہو جائے تو تمام جھوٹی خوشیاں پامال ہو جاتی ہیں ۔ اب آپ دیکھیں ”جھوٹی خوشیاں کیسا فرمایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت کا ایک ایک لفظ ایک ایسا قیمتی موتی ہے جسے وہاں سے اکھاڑا نہیں جا سکتا اس کی جگہ تبدیل نہیں کی جاسکتی ۔ ایک عام آدمی کہتا ہے خوشیاں برباد کر دیتا ہے تو پھر اچھی نصیحت کر رہے ہو۔ جو خوشیاں ہیں وہ بھی گئیں ساری کی ساری فرماتے ہیں جھوٹی خوشیاں پامال کر دیتا ہے یہ خیال اور غیر اس کے جھوٹ سارا یہ مضمون ہے جو اس ایک لفظ میں بیان فرمادیا ۔ فرماتے ہیں سچی خوشیاں بھی ہیں ۔ یہ خیال سچی خوشیاں کو تقویت بخشتا ہے اور جھوٹی خوشیوں کو پاؤں تلے پامال کر دیتا ہے اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف اپنا دل لگاتا ہے۔ یہ جو نصیحت تھی اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس معزز ہندود یوان کو سمجھ آئی یا نہ آئی لیکن اس کے حالات دیکھتے ہوئے غالباً اس سے بہتر نصیحت اس کو کی نہیں جاسکتی تھی ۔ ایک ہندو دیوان ہی صاحب حیثیت انسان تھا کیونکہ ہندو دیوان بڑے معزز لوگ تھے دنیا کے لحاظ سے بھی اور مال و دولت کے لحاظ سے بھی ، رعب اور مرتبہ کے لحاظ سے بھی۔ تو فرمایا کہ یہ دنیا کی چند دن کی باتیں ہیں تم اپنے اثر رسوخ کو ظلم میں استعمال نہ کرنا۔ اپنی دولت کا بے جا استعمال نہ کرنا ، اس کا بے محل استعمال نہ کرنا ورنہ تم جھوٹی خوشیوں میں رہو گے۔ تم سمجھتے رہو گے کہ تم بڑی چیز ہو لیکن جب وقت آئے گا تو کچھ بھی نہیں نکلو گے ۔ پس یہ وہ نصیحت