خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد 15 700 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء لگا یا انسانی زندگی تک پہنچنے کے لئے زندگی نے جتنے مراحل کا سفر کیا ہے ایک بلین سال اس کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، بالکل معمولی حیثیت ہے اور یہ سوچ آگے بڑھی تو اب یہ اس منزل میں داخل ہو گئی ہے کہ ہم جو کہتے تھے Big Bang سے ہمیں ملین سال کے اندر یہ سارا نظام وجود میں آگیا اب جونئی دریافتیں ہو رہی ہیں وہ دیکھنے کے بعد اور جو کائنات کے انتظام کے پیچ و خم دکھائی دے رہے ہیں اب یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہیں ملین سال میں تو یہ ممکن ہی نہیں۔ وہاں ان کو تو کل کا پتا نہیں ۔ تو کل بتاتا ہے کہ خدا ہے جو اس جاری کارخانے کے علاوہ اپنے عرش سے ان باتوں پر نظر رکھتا ہے اور اگر ایک بیرونی دماغ فیصلے کرنے والا ان کے کمپیوٹر میں داخل کر دیا جائے تو ایک بلین سال میں آسانی سے وہ سارے مراحل طے ہو سکتے ہیں لیکن فیصلے باہر کرنے پڑیں گے۔ اتفاقات سے مضمون آگے نہیں بڑھتا بلکہ اتفاقات جو دکھائی دیتے ہیں ان کو اگر کوئی جوڑ نے والا ہو اور اس کا ہاتھ دکھائی نہ دے رہا ہو تو وہ سفر جو اتفاقات کے لئے لاکھوں سال کا سفر ہو گا وہ ایک جوڑنے والا ہاتھ چند سالوں میں طے کر سکتا ہے۔ پس خدا کی ہستی کی طرف یہ ہنکائے لئے جارہے ہیں اور ابھی تک ان کو ہوش نہیں آتی پوری طرح ۔ بعض کو آگئی ہے ، بعضوں نے کھلم کھلا کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ حقائق ہیں ، ہم ان سے کب تک آنکھیں بند کریں گے ۔ جو حقائق اب تک معلوم ہوئے ہیں وہ اس بات کو نا ممکن دکھا رہے ہیں کہ کسی بیرونی باشعور اور عالم ہستی کے بغیر یہ کارخانہ اس رفتار کے ساتھ آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ یہ ناممکن ہے۔ تو اس لئے تو کل کا مضمون کا ئنات میں بھی ایک ہے جسے اب آہستہ آہستہ سائنس دانوں نے دیکھنا شروع کیا ہے لیکن ہمیں تو خدا تعالیٰ نے پکی پکائی دی ہے۔ قرآن کریم نے یہ ساری باتیں کھولیں اور آنحضرت ﷺ نے ان کے بار یک رازوں سے پردے اٹھا دئے۔ پس اس پہلو سے جماعت کو جب سب کچھ خدا تعالیٰ نے شعور بخش دیا تو اس آخری مقام سے غافل ہو جانا ان کی ساری محنت کو ضائع کر سکتا ہے اور توکل کے لئے جو اس مضمون کا تو کل ہے کہ لوگ کثرت سے آئیں گے تو کیا کرنا ہے قرآن کریم نے ہمیں صاف نصیحت فرمائی ہے: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجَانَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر : 2 تا 4)