خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد 15 63 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء کا فتوی میں نے پہلے آپ کے سامنے رکھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مریض ہو یا سفر پر ہو تو یہ نیکی نہیں ہے کہ انسان زبر دستی روزہ رکھے۔ جب اللہ نے فرمایا ہے کہ پھر دوسرے ایام میں رکھو تو نیکی اطاعت میں ہے۔ پس اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس وقت روزے نہ رکھے اور بعد میں رکھے تو یہ دوسرا معنی جو ہے بعینہ اس کے ساتھ مطابقت کھاتا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا جیسا کہ پہلے معنی پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے۔ Lane نے یہ دونوں معنی بیان کئے ہیں لکھتا ہے who so does good that Or does good in یعنی نیکی بغلی نیکی۔ is not obligatory on him Obedience نیکی کرے اطاعت کو اپناتے ہوئے ۔ تو یہ جو اطاعت کو اپنانے والا معنی ہے یہ بہتر ہے اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہی ترجمہ کیا ہے اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ بعد کا جو آخر یہ مضمون ہے وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ یہ رمضان کے متعلق عمومی حکم ہے اس کا اس استثنائی حکم سے کوئی تعلق نہیں کہ رمضان کے مہینے میں جو روزے ہیں وہ تمہارے لئے بہر حال بہتر ہیں۔ تمہیں علم نہ ہو تو الگ بات ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تم علم رکھتے کہ روزوں کے کیا کیا فوائد ہیں تو تم جان لیتے اور یہی بات خود کہتے کہ یہ اچھی چیز ہے ہمارے فائدے میں ہے۔ اب وہ علم سے تعلق میں آنحضرت ﷺ کے کچھ ارشادات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ جب علم نہ ہو تو صاحب علم سے علم حاصل کرنا چاہئے اور رمضان کی برکتوں ،اس کی مصلحتوں، اس کے گہرے فوائد کا سب سے بڑا علم حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو تھا۔ پس اس حوالے سے اس علم کے تعلق میں چند احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ایک حدیث نسائی کتاب الصوم سے لی گئی ہے۔ صلى الله صل حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے رمضان مبارک کا ذکر فرمایا اور اسے تمام مہینوں سے افضل قرار دیا اور فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں حالت ایمان میں ثواب اور اخلاص کی خاطر عبادت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے اس روز تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا ، تو ہر رمضان ہمارے لئے ایک نئی