خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد 15 بھی عطا کرتی ہے۔ 662 خطبہ جمعہ 23 اگست 1996ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایک اور مضمون پر حیرت انگیز روشنی ڈالتے ہیں جو حدیث میں آیا ہے اور جس سے عموماً لوگ ناواقفیت کی وجہ سے غلط نتیجہ نکالتے اور نیکی اختیار کرنے کی بجائے صلى الله بدیوں پر جرات کرتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ خدا کے بعض بندے س بندے ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اعمل ماشئت فقد غفرت لک کہ اے میرے بندے جو چاہے کرتا پھر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ (صحیح مسلم ، كتاب التوبة ، باب قبول التوبة من الذنوب و أن تكررت الذنوب و التوبة ) کئی ایسے علماء بھی جو اپنی دانست میں بڑے بڑے عالم ہوتے ہیں اس حدیث سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو ہر گناہ کی چھٹی دے بیٹھتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب تم آزاد ہو میں نے تمہیں بخش دیا ہے اب ساری زندگی گناہوں میں ملوث رہو ، ڈوبے رہو،غرق ہو جاؤ، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں اور تمہیں بھی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ میں تمہیں بخش چکا ہوں ۔ یہ مضمون بالکل غلط اور جھوٹا ہے جو اس طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔ جب انسان بار بار رورو کر اللہ سے بخشش چاہتا ہے تو آخر کار خدا کہہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھے بخش دیا اب تیرا جو جی چاہے سو کر ۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل کو بدل دیا اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہوگا ۔۔۔“ فرمایا جب اللہ کہتا ہے کہ میں نے بخش دیا ہے تو اسے بخشا ہے جسے بخشنے کی پہلے اسے اہلیت عطا کر دیتا ہے۔ بخشا اس کو ہے جو گناہوں سے پاک ہو چکا ہو، جسے وہ خود گنا ہوں سے پاک کر دیتا ہے ۔ اس لئے بخشش کا یہ مطلب نہیں کہ گناہوں میں ملوث رکھتے ہوئے کہتا ہے میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ پہلے اس کا دل گنا ہوں سے دھو دیتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میں نے تجھے بخش دیا ہے ۔ اب جو چاہے کر یعنی سوائے اس کے اب تو کچھ نہیں کرے گا جو میری رضا ہو گی ۔ اب میں نے تیرے دل کی کایا پلٹ دی ہے۔ یہ بخشش کا مضمون ہے جو ایک عارف باللہ کے سوا کسی دوسرے کے دل پر روشن نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا نشان مانگنے والوں کو میں یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹیاں اتار کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پڑھیں تو