خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد 15 603 خطبہ جمعہ 2 اگست 1996ء پھر یہ تو عام نصیحت ہے جو وسعت کے لحاظ سے تو بہت ہے یعنی انسانی زندگی کے ہر دائرے پر محیط ہے مگر مضمون کے تحکم کے لحاظ سے، لازم ہونے کے اعتبار سے یہ ایک نرم آیت ہے۔ یعنی مثبت پہلو میں اس میں ایک نرمی پائی جاتی ہے۔ نہ بھی کرو تو تمہارا گزرہو جائے گا اس کے نتیجہ میں تمہیں جہنم نہیں ملے گی لیکن اعلیٰ خوبیوں سے، اعلیٰ مراتب سے محروم رہ جاؤ گے۔ اس کی ایک مثال ایک ایسے شخص کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نیکیوں کی تعریف پوچھی کہ کیا کیا باتیں ہیں ۔ جب اس کو پتا چلا کہ فرائض بھی ہیں اور نوافل بھی ہیں اس کے علاوہ نوافل کو حسین بنا کر اس رنگ میں کرنا کہ گویا نیکی کرنے والا حسن ہو گیا۔ تو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ میں ان باتوں کی طاقت نہیں ہے، مجھے تو صرف فرائض بتا ئیں۔ جتنے الله الله فرائض ہیں وہ میں کرلوں گا اس سے آگے نہیں بڑھوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے اگر تم اس عہد پر قائم رہو تو تمہیں کوئی خطرہ نہیں ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ تعاون کا مضمون طوعی ہے۔ اگر یہ لازم ہوتا تو پھر ان معنوں میں لازم کہ گویا اگر نہ کریں گے تو سزا ملے گی تو اس پہلو سے آنحضرت ﷺ اس کو نوافل سے آزاد نہ کرتے ۔ على صلى الله مگر اگلا پہلو اس آیت کا وہ قطیعت رکھتا ہے ۔ وہ تھوڑے دائرے پر اطلاق پاتا ہے لیکن بڑی شدت کے ساتھ اطلاق پاتا ہے اور وہ یہ ہے وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ جہاں گناہ کا تعلق ہو اور جہاں بعض لوگ بعضوں پر زیادتی کر رہے ہوں وہاں ہرگز تعاون نہیں کرنا۔ وہاں اگر تعاون کرو گے تو تم یاد رکھوں اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ اللہ تعالیٰ سخت پکڑنے والا ہے، سخت عذاب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ سے بچو۔ تو بعض دفعہ مثبت مضمون نرم ہو جاتا ہے اور منفی مضمون زیادہ شدید ہو جاتا ہے یہ اس کی ایک مثال ہے اور نیکیوں میں تعاون کرنا ہے ، بدیوں میں ہرگز نہیں کرنا اس کی ایک مثال آنحضرت ﷺ ایک تمثیل کے طور پر پیش فرماتے ہیں۔ بخاری کی یہ حدیث ہے كتاب الشركة باب هل يقرع في القسمة والاستهام فيه) اس کا ترجمہ بہر حال پیش کر دیتا ہوں ۔ حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا اس شخص کی مثال جو اللہ تعالی کی حدود کو قائم کرتا ہے اور اس شخص کی مثال جو ان حدود کو توڑتا ہے ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں