خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد 15 557 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء جو لطف لاتی جب جاتی تو جتنے و جتنے دکھ دے جاتی اس کا کوئی تصور بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک دنیا کے محبوب کی جدائی سے دیکھو کتنا دکھ پہنچتا ہے۔ چند لمحے کے وصل کی گھڑیاں جو سکھ لاتی ہیں وہ بعض دفعہ عمر بھر کا دکھ پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ وہ فلسفہ ہے ازل اور ابد کا جس کی حقیقت ہمیں قرآن کریم کے ما بعد الموت کے پیش کردہ مناظر سے سمجھ آتی ہے۔ جتنا بڑا دکھ ہو جتنی شدید تکلیف ہوا تنا ہی وقت لمبا ہو جاتا ہے اور اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا ۔ بعض دکھ کی راتیں لگتا ہے ساری زندگی پر محیط ہو گئی ہیں اور سکھ کی زندگیاں جب ختم ہوتی ہیں تو انسان کہتا ہے : خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا کچھ بھی نہیں رہا چند دن کی باتیں تھیں اور پھر بعض شعراء خدا کو (خواجہ میر درد) طعنے دیتے ہیں: ( فیض احمد فیض ) دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے یہ دو چار دن کی زندگی یہی دی تھی نا لیکن جب گزرگئی تو دنیا کے عیش کی کچھ سمجھ نہیں آتی کہاں چلا گیا سوائے ان بداثرات کے جو باقی رہ جائے کچھ پیچھے چھوڑ کر نہیں جاتا۔ تو ازل کی محبت اور از لی محبوب سے یہ دو لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔ اس لئے جنت لامتناہی بھی ہوگی تو وہ بور نہیں کر سکتی اس سے انسان اکتاہٹ محسوس نہیں کر سکتا کیونکہ اصل اکتاہٹ کا فلسفہ تعلق کی کمی میں ہے اور جو شخص بھی تعلق رکھنے کے باوجود پرانا ہو جائے اور اس کی جاذبیت ختم ہو جائے وہ شخص اکتاہٹ پیدا کرنے لگتا ہے۔ ایک اللہ کی ذات ہے جس کا تعلق نہ صرف یہ کہ بے انتہا لذتیں لاتا ہے، لامتناہی سرور بخشا ہے جیسے قرآن کریم فرماتا ہے تم اس دنیا میں تصور بھی نہیں کر سکتے ، ناممکن ہے۔ مثالیں ہم دیتے ہیں مگر تمہارے لئے ممکن نہیں کہ سوچ سکو کہ وہ چیز کیا ہے۔ نعماء جنت کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ وہ دراصل محبت کی جنت ہے اور اس محبت کا دائمی ہونا ایک لازمی نتیجہ تھا۔ پس اس پہلو سے جنت کے ازلی ہونے کی سمجھ آگئی اور پھر یہ کہ جب محبوب اپنے حسن میں بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہو پھر تو کسی جگہ اس کا انقطاع ممکن نہیں۔ غَيْرُ مَمْنُوْنِ ( حم السجدہ: 9) کے سوا کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ پس یہی ہے اللہ تعالیٰ نے جو نتیجہ نکالا کہ یہ وہ جنت ہو گی تمہاری جزا کی جو غَيْرُ مَمْنُونٍ ہے۔ وہ کائی جاہی نہیں سکتی۔ جہاں بھی کائی