خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد 15 492 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء تیرے حال سے غافل نہیں ہے۔ پس زار کو تو اس کی آواز ہو سکتا ہے نہ بھی پہنچتی ، ہو سکتا ہے یہ واقعہ ایک فاصلے پر ہوتا اور اس کی نظر بھی نہ پڑتی بعد میں اس سے جو سلوک ہوگا اس کا بھی زار کو کچھ پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ہر حال تجھ پر کھڑا ہے۔ سبحان من یرانی کا مضمون ہے جو یہاں بیان ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود کے اس شعر میں جو آپ بار بار سنتے ہیں سبحان من یرانی ، سبحان من یرانی تو ایک صاحب عرفان کا کلام ہے جو جانتا ہے کہ ہر لمحہ میرے خدا کی مجھ پر نظر ہے۔ اس سے کوئی حال بھی میرا غافل نہیں۔ نہ میرا نہ ان لوگوں کا جو میرے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں پس فرمایا تو کل اس ذات پر تو نے کرنا ہے جو ہمیشہ تجھ پر نگران کھڑا ہے اس کی پیار کی نگاہیں تجھ پر پڑتی ہیں بلکہ وہ اس حد تک تیرے حال سے واقف ہے وَ تَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِينَ (الشعره : 220) وه سجدہ کرنے والوں میں تیرے تقلہ تیرے تقلب کو بھی دیکھ رہا ہے۔ اب دیکھیں کتنا عظیم مضمون ہے جس کا پہلے مضمون سے کیسا حیرت انگیز تعلق ۔ ہے۔ تقلب کا صلى الله یہ مضمون بعض مفسرین نے بلکہ اکثر نے یہ بیان کیا ہے کہ جب مومن سجدہ کرتے ہیں تو ان کے درمیان تیرا پھر نا اللہ دیکھتا ہے کیونکہ تقلب کا ایک معنی ہے پھر نا لیکن تقلب کا یہ معنی اس صورت حال پر اطلاق نہیں پاتا۔ سجدے کے وہ اتا۔ سجدے کے وقت تو سب سے آگے سجدہ ریز محمد رسول اللہ ﷺ ہوا کرتے۔ اللہ ﷺ ہوا کرتے تھے۔ اس وقت آپ کے تقلب کا کیا مطلب ۔ یہاں تقلب کا جو میں معنی سمجھتا ہوں وہ یہی ہے کہ آپ کا سجدے میں خدا کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ کروٹیں بدلنا اور سجدے میں بے چینی سے جب انسان دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہوتا ہے جب لوٹتا پوٹتا ہے تو تقلب کا معنی ہی لوٹنا پوٹنا ہے۔ تو تیری بے قراریاں خدا کے حضور سجدہ ریز لوگوں کے حضور، خدا کی نظر میں رہتی ہیں۔ پس چونکہ سجدے کا مضمون ہی چل رہا ہے اطاعت ہی کا مضمون چل رہا ہے تو فرماتا ہے کہ تیرے خدا کی تجھ پر اس وقت بھی نظر ہوتی ہے جب سجدہ کرنے والوں میں سب سے زیادہ بے قرار سجدہ تیرا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اللہ کی محبت میں گوندھا ہوا اور اللہ کی محبت میں تڑپتا ہوا تیرا سجدہ ہے۔ پس تقلب سے مراد وہ تڑپنا ہے سجدے کا جو آنحضرت ﷺ کو نصیب تھا اور فرمایا تجھے پھر کیا پرواہ۔ میں تجھے دیکھ رہا ہوں ، ہر حال میں دیکھ رہا ہوں اور تیرے تقلب پر بھی نظر ہے۔ جو دکھ تجھے پہنچتا ہے وہ سجدوں میں تو میرے حضور پیش کر دیتا ہے۔ تیری بے قراریاں میری نظر کے سامنے رہتی ہیں ۔ اِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ صلى