خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 485 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 485

خطبات طاہر جلد 15 485 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء لطیف ہے لیکن میں جو سمجھتا ہوں وہ اس سے مختلف ہے۔ اس کو غلط نہیں سمجھتا کیونکہ قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں ۔ مگر میرے نزدیک ان دونوں کمانوں کا رخ ایک ہی طرف ہے یعنی ان کا جو بیچ کا دھاگہ یا تنی ہے اس سے ایک کمان محمد رسول اللہ ﷺ کی کمان اور ایک خدا کی کمان ہے وہ اس طرح ایک سمت میں ہیں کہ ناممکن ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی کمان چلے اور خدا کی کمان میں حرکت نہ صل آئے ۔ نا ممکن ہے کہ اللہ کی کمان کو کھینچا جائے اور وہ نچلی کمان اس کے ساتھ حرکت میں نہ آئے کیونکہ دونوں کا ایک ایسا گہرا اٹوٹ رشتہ قائم ہو چکا ہے کہ جب ایک کو کھینچا جائے دوسری کھینچ جاتی ہے جب دوسری کو کھینچا جائے تو پہلی کھینچ جاتی ہے اور اس تنی سے جو تیر نکلتا ہے وہ بیک وقت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نکلا ہوا تیر بھی ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے نکلا ہوا تیر بھی ہوتا ہے۔ الله التعليم اس تفسیر کی تائید کرنے والی میرے نزدیک وہ آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَبِّى (الانفال:18) اگر کمانوں کو برعکس سمت میں رکھا جائے تو وہ دونوں کا چلایا ہوا تیرا ایک دوسرے کی طرف جائے گا ۔ اگر تیر چلانے کا مضمون اس سے نکالا جائے تو سوائے اس کے ممکن ہی نہیں کہ جو نقشہ میں نے ذہن میں رکھا اور آپ کے سامنے پیش کیا اسے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی تائید میں سمجھا جائے تو بات یہ بنے گی کہ آ بہ بنے گی کہ آنحضرت ا کی کمان صلى الله صلى الله سے چلا ہوا ہر تیر اللہ کی کمان - کمان سے چلا ہوا تیر تھا۔ اللہ کی کمان سے جو تیر چلتا تھا محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے چلتا تھا ۔ پس اس پہلو سے دَنَا فَتَدَلی کا مضمون یہ بنا کہ اتنا وہ قریب ہو گیا کہ جس سے زیادہ ممکن نہیں تھا اور فَتَدَنی پھر وہ جھک گیا اور اس جھکنے کے نتیجے میں وہ قَابَ قَوْسَيْنِ ہو گیا ۔ اب قَوْسَینِ کا مضمون یہاں ایک اور معنے اختیار کر جاتا ہے۔ فرماتا ہے انسانیت کے ساتھ اس کا تعلق اس کے جھکنے کے نتیجہ میں خدا کے تعلق کے ساتھ ایسا مدغم ہو گیا کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی بشریت نور ہوگئی ، اس کا نور بشریت بن گیا ۔ پس اس پہلو سے وہ بندوں پر جب جھکا ہے تو خدا کا نور بن کر اپنے ہم جنسوں پر تو جھک گیا اور اس کی بشریت نے وہ علاقہ قائم کر دیا۔ جیسے ایک تنی دو کمانوں کے درمیان علاقہ بن جاتی ہے ۔ پس رسول اللہ ﷺ کا صلى الله بنی نوع انسان پر جھکنا ان کی خاطر تھا مگر خدا کی خاطر ان کی خاطر ہوا۔ یہ وہ مشکل فقرہ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا اس کی تشریح ہے۔ ورنہ بندے کی خاطر بھی ایک انسان رحمت کا سلوک کرتا ہے اور