خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد 15 43 خطبہ جمعہ 19 جنوری 1996ء صلى الله یا تراویح کی نماز میں دہرایا جائے ۔ قرآن خود دہرائی جانے والی کتاب ہے وہ ایک الگ مضمون ہے وہ تو سال میں بار ہاد ہرایا جاتا ہے مگر رمضان میں دہرانے کا جو مضمون ہے اس کا تعلق ان احادیث سے ہے جن میں آنحضرت علی آنحضرت ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام خود آپ پر نازل ہو کر آپ پر پورا قرآن جو اس وقت تک اتر ا ہوتا تھا پڑھتے تھے یعنی گویا کہ قرآن کریم دوبارہ نازل ہوتا تھا اور آپ بھی ساتھ اس قرآن کریم کو جو جبرائیل پڑھ کر سناتے تھے دہراتے جاتے تھے۔ پس ایک معنی تو یہ ہے۔ فِيهِ الْقُرآن کا جو دوسرا معنی بیان کیا جاتا ہے اور تفسیر کبیر میں بھی آپ ترجمہ دیکھیں گے تو یہی ملے گا کہ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس کے بارے میں قرآن کریم نازل کیا گیا تو جس کے بارہ میں کیوں فرمایا گیا۔ رمضان کے علاوہ بھی تو بہت سی باتیں ہیں اور بہت کثرت سے ہیں جو رمضان نہیں کہلاتیں مگر قرآن کریم ان کے متعلق مضامین کھولتا ہے تو اس میں حکمت یہ ہے کہ تمام تر شریعت احکامات اور نواہی جس کثرت کے ساتھ اور جس تکمیل کے ساتھ رمضان میں دہرائے جاتے ہیں یعنی ان پر عمل کیا جاتا ہے اور کروایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک پہلو بھی شریعت کا باقی نہیں رہتا جو رمضان میں نہ ادا ہو۔ اس پہلو سے کوئی اور مہینہ ایسا نہیں کہلا سکتا کہ گویا قرآن کریم اس کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔ جب رمضان کے بارے میں نازل ہوا پڑھتے ہیں تو مراد ہے کہ قرآن کریم نے جتنی بھی انسان سے توقعات کی ہیں ، جتنے بھی ارشادات فرمائے ہیں ، جتنی باتوں سے روکا ہے یا نا پسند فرمایا ہے ان سب کا اس ایک مہینے سے تعلق موجود ہے۔ پس خدا کی خاطر بھوکے رہ جانا اب یہ بھی ایک عبادت کا مضمون ہے لیکن رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں لازم نہیں ہے۔ خدا کی خاطر کسی سختی کا جواب بھی سختی سے نہ دینا۔ جس کا سختی سے جواب دینے کی قرآن بعض حالات میں اجازت بھی دیتا ہے مگر خدا کی خاطر نیکی کو اس کے اعلیٰ درجے پر پہنچ کر ادا کرنا اور ادنی درجے پر بھی ادا کرنا یہ تمام تر مواقع رمضان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔ وہ چیزیں جو جائز ہیں ان سے خدا کی خاطر مزید احتر از اور نوافل پر زور یہ روزمرہ کے عام مہینوں میں دیکھنے میں آتا تو ہے مگر شاذ کے طور پر، اس طرح نہیں کہ پوری قوم مسلسل ان باتوں میں ہمہ تن مصروف ہو جائے ۔ پس اس پہلو سے کوئی بھی ایسی نیکی نہیں جس کا قرآن میں ذکر ہوا اور رمضان میں خصوصیت کے ساتھ اس کو ادا کرنے کے مواقع نہ ہوں اور کوئی بھی ایسی بدی نہیں ہے جس سے رکنے کا حکم ہو اور