خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد 15 429 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء صلى الله ہوتا ہے۔ تو دیکھو نظام کا نمائندہ چونکہ خدا کے نظام کے آپ نمائندہ ہیں آپ کا یہ مقام اور مرتبہ اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے ۔ پس زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے نا کہ ایک امیر نے جو درجہ بدرجہ ، سلسلہ بہ سلسلہ آخر حضرت او ر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہی کا تو نمائندہ ہے ورنہ اس کی امارت کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ وہاں سے شروع نہ ہوتا تو نہ خلیفہ کی کوئی اہمیت ، نہ امیر کی کوئی اہمیت ، نہ کسی عہدیدار کی سب بے معنی مٹی کے مادھو بن جاتے کیونکہ ان میں امر نہ رہتا۔ ان میں وہ روح نہ پھونکی جاتی جو آسمان سے اترتی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے پھر آگے نظام جماعت کے کل پرزوں کو نصیب ہوتی ہے۔ صلى پس اس پہلو سے یا د رکھیں کہ وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی میں آپ پر مقرر ہے اگر وہ زیادتی بھی کرتا ہے تو یہ کیوں نہیں یاد کرتے کہ ماں باپ کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اف بھی نہیں کرنی۔ تو اگر یہ زیادتی کرتا ہے تو اس کی شکایت کا ہمیں حق ہے لیکن بد تمیزی کا کیا حق ہے۔ اف نہ کرنے کا کم سے کم اتنا مطلب تو لیں کہ اس کے سامنے آواز اونچی نہ کریں۔ ادب اور پیار کے ساتھ اسے سمجھانے کی کوشش کریں کہ دیکھیں آپ نے مجھ پہ زیادتی کی ہے اور اگر وہ نہیں مانتا تو پھر جیسا کہ نظام جماعت آپ کو اجازت دیتا ہے آپ اس کی شکایت بالا افسروں تک کر سکتے ہیں اور پھر سارا نظام عدل پر مبنی ہے اس لئے لازم ہے کہ اس کی شکایت کا ازالہ ہوا گر وہ عدل کے اوپر بنی شکایت تھی۔ لیکن دوسری نا انصافی پھر یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جس کو بھیجا جائے اگر اس کا فیصلہ کسی ایک یہ کے خلاف ہوا اور کسی دوسرے کے حق میں ہو تو ہمیشہ بلا استثناء یہ چٹھی لکھتے ہیں کہ آپ کے نمائندوں نے عدل سے کام نہیں لیا، انصاف سے کام نہیں لیا اور بعض ایسی جماعتیں ہیں دنیا میں جہاں تیں تھیں، چالیس چالیس سال سے یہی جھگڑا چلا آرہا ہے۔ وہ نا سور ایسا ان کے اندر داخل ہوا ہے کہ کینسر بن کے سارے بدن میں پھیل گیا ہے۔ کبھی آج تک ایسا نہیں ہوا میں پرانی یاد سے جب میرا خلافت سے ایک محض غلامی کا ، اب بھی غلامی کا تعلق ہے مگر اور رنگ کا ہے، پہلے بھی غلامی کا تعلق تھا۔ اس وقت وقف جدید کی حیثیت سے یا خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے میں جماعتوں کے دورے کرتا تھا اور ان جماعتوں کو دیکھتا تھا ، جانتا ہوں ، ابھی بھی جانتا ہوں ، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ہر کوشش آپ نظام جماعت کر دیکھے۔ ایسے لوگوں کو بھی چنے جوان کے نمائندے ہوں ۔ ان سے کہا جائے کہ جناب