خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 395
خطبات طاہر جلد 15 395 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء میں نے یہ حقیقت معلوم کی ہے، دریافت کی ہے یہ بات کہ تمام یورپین یا مغربی قوموں میں سب سے زیادہ فطرتاً سچی قوم جرمن قوم ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ لوگ ان کو اکھڑ سمجھتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سخت مزاج ہیں حالانکہ ان کے اندر سچائی کی وجہ سے ایک ڈسپلن پیدا ہو گیا ہے اور اسی بناء پر بعض معاملات میں سختی سے عمل کرتے ہیں۔ مگر حقیقت میں اس کی وجہ طبیعت کا اکھڑ پن نہیں ہے کیونکہ اس کے برعکس میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ قوم سچ کی قدردان بھی ہے اور جہاں یہ لوگ سچے لوگ دیکھتے ہیں وہاں ان سے طبعا ان کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی سچی قو میں ہی ہیں جو بچوں سے محبت کرتی ہیں یا کر سکتی ہیں۔ پس آپ کے لئے یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ آپ ایک ایسے ملک میں آئے ہیں جہاں کم سے کم آپ کے بیچ پر کوئی ابتلاء نہیں آیا اور آپ سچ بولنا چاہیں تو ان کے مزاج کے موافق رہیں گے ان کے مزاج کے برعکس بات نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود اگر آپ اپنی پرانی گندی عادتوں کو ساتھ لے کر یہاں داخل ہوں اور ان سے جھوٹ کا معاملہ کریں تو بہت ہی بڑا گناہ ہے، بہت ہی بڑی ناشکری بھی ہے۔ پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کے مضمون کے ساتھ ناشکری کے مضمون کو باندھا ہے یا درکھیں یہاں بھی آپ کا یہی معاملہ ہے۔ اگر آپ جھوٹ بولیں گے اس ملک میں رہ کر تو اس قوم کی مہمان نوازی ، اس کے اعلیٰ اخلاق کی بھی ناقدری اور ناشکری کرنے والے ہوں گے ۔ وہ فوائد جو یہ آپ کو ویسے دیتے ہیں اگر آپ جھوٹ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو محض یہی نہیں کہ آپ ان کے ناشکر گزار ہوں گے، آپ خدا کے ناشکر گزار ہوں گے اور آپ کا کوئی نیک اثر اس قوم پر پھر قائم نہیں ہوسکتا۔ نہ آپ کا ، نہ آپ کے دین کا ، نہ آپ کی قوم کا۔ پس آپ جھوٹ کے ایمبیسیڈر بن کر ، جھوٹ کے سفیر بن کر اگر غیر قوموں میں یا دوسری قوموں میں زندگی بسر کرتے ہیں تو حقیقت میں شیطان کے سفیر بن کر زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اللہ کے سفیر تو سچ کے علمبردار ہوتے ہیں ، بیچ کے نقیب بنا کرتے ہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ اگر سچائی کا موقع عطا فرمائے تو بہت تیزی کے ساتھ آپ اس قوم کے دلوں کو فتح کر سکتے ہیں۔ پس اگر آپ نے اپنی میزبان قوم کے دلوں کو فتح کرنا ہے تو اس کی چابی بھی سچائی میں ہے۔ سچ بولیں ، سچا کردار بنائیں ، سچ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں ۔ آپ کے چہروں سے سچائی ظاہر