خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد 15 389 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء نگرانی و بیدار مغزی کے ساتھ جھوٹ سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا آپ پر لازم ہے۔ 66 ( خطبه جمعه فرموده 24 مئی 1996ء بمقام باد کر وکس ناخ Badkreuz Nach ، جرمنی) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی : وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا پھر فرمایا : (الفرقان : 73) آج مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے اور آج کے خطبہ ہی میں مجھے خدام سے بھی افتتاہی خطاب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے آج کے خطبہ کا موضوع یہ آیت چنی ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی صفات بیان فرماتے ہوئے جو رحمان خدا کے بندے ہیں فرماتا ہے وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے یا جھوٹ کی زیارت نہیں کرتے ۔ يَشْهَدُونَ الزُّورَ کے دونوں معانی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں رمضان کے مہینہ کے متعلق فرمایا فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ جس نے اس رمضان کے مہینہ کا منہ دیکھا وہ یہ کرے۔ تو لَا يَشْهَدُونَ الزُّور کا جو عام معروف ترجمہ ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔ مگر اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ جو مضمون بیان ہے اس میں یہ ترجمہ کرنا بدرجہ اولیٰ ہوگا کہ وہ جھوٹ کا منہ تک نہیں دیکھتے۔ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اور جب وہ لغو بات سے گزرتے ہیں تو عزت اور وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں ۔ تو چونکہ لغو بات بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے اس لئے