خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد 15 359 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء یہی کوشش کل ان پر ایک مذہبی جنون طاری کر دے گی اور تمہیں جو مذہبی آزادی کا تصور ہے کہ تم آزاد ہو اور ہر دوسرا غلام ہو یہی مذہبی آزادی کا تصور لے کر ہندو اٹھیں گے اور ہندوؤں کے سوا ہر دوسرا شہری ہندوستان کا ان کا غلام ہو جائے گا اور ایسے ظلم م ہو جائے گا اور ایسے ظلم کئے جائیں گے جو تمہاری شریعت میں نے یعت میں تصور بھی نہیں کئے جا سکتے ۔ مودودی صاحب نے ، مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ جواب دیا ہاں میں خوب سمجھتا ہوں اور اس کے باوجود میں اس موقف پر قائم ہوں ۔ بے شک کریں ان کا حق ہے۔ ہمارا بھی ایک حق ہے، ان کا بھی حق ہے۔ یہ باتیں ہیں جو 1953ء میں دانشور، چوٹی کے عدلیہ کو سمجھنے والے وہ جسٹس، وہ حج جن کا مرتبہ تمام ہندوستان میں مانا گیا انہوں نے اس وقت محسوس کر لیا تھا کہ انتہا پسند ملاں صرف پاکستان ہی کو نہیں پورے ہندوستان کو کس سمت میں لے جا رہے ہیں اور آخر اس کا انجام کیا ہوگا۔ تو آج دسویں تاریخ کو لو جمعہ جمعہ کو لو جو جو یہ اعلان ہو رہے ہیں ہیں یہ یہ یہ لا لازماً کوئی گہرا پیغام لے کر آئے ہیں۔ ہیں۔ ان ان کو کو معمولی محمد سمجھ کر ایک اتفاقی ہونے والا الیکشن سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میں نے یہ خبریں پڑھیں تو سارا پس منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا جس سے میں واقف تھا کہ اس طرح مولوی کی سازش سے اسلام کے نام پر ظلم کئے جانے تھے اور ان مظالم کی بازگشت کی صدا لازماً ہندوستان سے آئی تھی اور اس کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے چوٹی کے جوں نے اس زمانے میں اس بات کو بھانپ لیا اور گویا ایک پیشگوئی کر دی کہ تم ایسا کرو گے تو پھر اس کے لئے تیار رہو۔ آج وہ دن چڑھا ہے جس میں ہندوستان کے مسلمان کو یہ ظلم کا دور دیکھنے کی بدنصیبی بھی نصیب ہوئی ہے۔ پہلے ہی ہندوستان کے مسلمان پر بہت ظلم ہوتے رہے ہیں، ابھی بھی ہو رہے ہیں لیکن جب یہ ظلم مذہب کے نام پر قانون بن کر کئے جائیں تو بظاہر انفرادی طور پر بھیا نک نہ بھی دکھائی دیں قوموں کی روح کچلی جاتی ہے۔ ایک بڑے وسیع پیمانے پر قوم مقتل کی جاتی ہے۔ اب یہ جو قو می قتل ہے یہ انفرادی قتل اور انفرادی ظلم سے بہت زیادہ سنگین بات ہے۔ ہندوستان میں مسلمان پہلے ہی اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جب ان کی تمام تہذیبی اقدار کو یکسر پامال کر دیا جائے گا اور اس قانونی حق سے محروم کر دیا جائے گا کہ اسلام ایک مذہب ہے جسے اختیار کرنے کی جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں ان کو اجازت نہیں۔ تو پھر جو بھیا نک نقشہ نمودار ہو گا اس کا آپ اس وقت تصور