خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد 15 354 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء th شروع ہوئے کہ جوا گلا جمعہ ہے وہ 10 Friday The ہے یعنی منی کی دس تاریخ ہو گی اور جمعہ ہو گا اس لئے Friday The 10th کے حوالے سے دیکھیں کیا ہوتا ہے اور زیادہ تر رجحان اس طرف تھا کہ میں اسی کو جمعہ کا موضوع بناؤں اور جہاں تک گرد و پیش پر نظر ڈالنے کا تعلق ہے مجھے کوئی ایسی نئی بات دکھائی نہیں دے رہی تھی جس کو Friday The 10 t کی اہمیت کے ساتھ باندھ کر میں پیش کر سکوں۔ اس لئے کوئی ارادہ ارادہ بھی نہیں تھا کہ اس پر گفتگو کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون پہلے بارہا روشن کیا ہے۔ بارہا ایسے جمعہ آئے ہیں جو دسویں جمعہ تھے اور خدا تعالیٰ نے کئی قسم کے نشان دکھائے اور انذار بھی جاری فرمائے ۔ تو یہ ضروری نہیں کہ قیامت تک اب Friday The 10th کا کشف جو ہے وہ ضرور اس جمعہ کو ہمیشہ اسی طرح پورا ہوتا رہے۔ بعض اوقات ایک خوشخبری آتی ہے یا ایک انذار جو ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ پورا ہوا یا پھر وقفے کے بعد، لمبے انتظار کے بعد ایک دفعہ پھر بھی پورا ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی ایسے الہامات ہیں جو یہ رنگ رکھتے ہیں۔ اس لئے اوّل تو جماعت کا یہ خیال کر لینا کہ گویا کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے کشفاً 10 Friday The کو دکھایا اور بار بار چمکتے ہوئے دکھایا اس لئے ضرور ہر " 10 Friday The کوکوئی نشان ہوگا یہ درسہ ایہ درست نہیں ہے۔ لیکن ایک اور پہلو بھی ہے کہ سب سے پہلا " 10 Friday The جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھائے جانے والے اس کشف کے بعد آیا تھا اس میں دو بڑے نمایاں انذاری نشان تھے اور بسا اوقات انذار کے ساتھ تبشیر بھی وابستہ ہوتی ہے، بشارتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں اور اس وقت میں نے اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ انذار کی کوکھ سے بھی بسا اوقات بشارتیں جنم لیا کرتی ہیں اور اس پہلو سے انذار محض کوئی ڈرا کر جان نکالنے والا مضمون نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر انذار سے فائدہ اٹھاؤ گے تو بہت سے نقصانات سے بچ سکو گے اور اگر باز نہیں آؤ گے تو جن کے لئے یہ انذار کا نشان ہے وہ تو مٹا دیئے جائیں گے مگر جن کے حق میں یہ نشان ہے ان کو بشارتیں عطا ہوں گی ۔ اب دیکھیں حضرت نوح کا جو سیلاب کا واقعہ ہے یہ بھی تو ایک انذاری نشان تھا مگر ایسا انذاری نشان جس نے ایک طرف تو یہ ایک قوم کی صف لپیٹ دی۔ دوسری طرف آنے والی سب قوموں کا باپ نوح کو بنا دیا اور دور دراز تک بہت وسیع علاقوں میں حضرت نوح کے فیض کو جاری فرمایا یہاں تک کہ چین میں بھی حضرت نوح کی طرح کے ایک بزرگ کا ذکر ملتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے سیلاب کا نشان دیا تھا اور ہندوستان میں بھی